|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں جماعت اسلامی بلوچستان کے مسائل حل کر سکتی ہے عدل وانصاف کے اسلامی حکومت کے قیام کیلئے عوام جماعت اسلامی کاساتھ دیں ۔سی پیک ،ریکوڈک ،سیندک جیسے قیمتی وبڑے ذخائرومنصوبے بلوچستان میں ہے مگر ان سے بلوچستان کے سوادیگر علاقے مستفیدہورہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے بلوچستان کی غربت ،بے روگاری ،فاصلے ودیگر مسائل کو پیش نظر رکھ کر یہاں کے عوام کو ترجیح میں رکھ کر دیگر صوبوں کے برابر لانے کی ضرورت ہے ۔گوادر کی وجہ سے سی پیک بن رہاہے مگر گوادر کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں بلوچستان کے نوجوان بے روزگاری تعلیم وترقی کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے احساس محرومی کاشکار ہیں ۔ قیمتی معدنیات کے باوجود عوام کی حالت بدلنے کا نام نہیں لے رہی ۔لوٹ مار کا بازارگرم ،روزگار برائے فروخت ،حکمران اور عوام میں فاصلے بڑھ گیے ہیں ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی نظم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ، نائب امراء زاہدا ختر بلوچ ،بشیراحمدماندائی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹریز مولانا محمد عارف دمڑ،افتخاراحمد کاکڑ،ڈاکٹرعطاء الرحمان،عبدالولی خان شاکر ،مولاناعبدالواسع قلندرانی ودیگر نے شرکت کی اس موقع پر سابقہ کاروائی رپورٹ وآئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت واقدامات کیے گیے۔اس موقع پر ہدایت الرحمان بلوچ، زاہداختر بلوچ اور بشیراحمدماندائی نے کہا کہ پاکستان مدینہ جیسی ریاست قائم کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا مگر افسوس کہ مغرب پرست حکمرانوں نے بار بار رکاوٹیں کھڑی کیں اور وطن عزیز کو اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ نظام کی طرف آنے ہی نہیں دیا گیا جس سے ملک بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان مسائل وپریشانیوں کاشکارہیں یہاں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہیں اچھی تعلیم ہونے کے باوجود ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، اقرباپروری عروج پر ہے، انصاف کے تقاضے غریب اور امیر کے لیے مختلف ہے، غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے ،ملک وبلوچستان کے ہر ادارے میں کرپشن کینسر کی طرح تباہی مچا رہا ہے ، جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے صوبائی مجلس شوریٰ کیساتھ سامنے ماہی گیروں کے مسائل کے مسائل وپریشانیوں کے حوالے سے قرارداد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کا ساحل 1050 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 750 کلومیٹر بلوچستان اور 330 کلومیٹر تک سندھ ہے۔ ساحل سمندر میں محنت کرنے والے ماہی گیر ، سمندری لہروں ، طوفانوں کا مقابلہ کرنے والے محنت کش ماہی گیر آج کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ بد قسمتی سے اب تک پاکستان میں کوئی ماہی گیر ی پالیسی نہیں ہے ماہی گیر ی کو تحفظ دینے کیلئے کوئی پالیسی تونہیں بنائی گئی البتہ حکومتی عہدیداروں نے ماہی گیری کے شعبے کو تباہ کرنے ، ماہی گیروں کے چولے کو بجھانے کیلئے ڈیپ سی فشنگ پالیسی بنائی ہے ا س لیے بنائی گئی حکومتی کرتا دھرتا ؤں نے سمندری حیاتیات کی نسل کشی کرنے کیلئے ڈیپ سی ٹرالنگ کو سیکڑوں لائنس جاری کیئے اور پھر ان اقدمات کو تحفظ دینے کیلئے ڈیپ سی فشنگ پالیسی لا ئی گئی ۔ جس کی وجہ سے سمندری حیاتیات کی نسل کشی اب تک ہورہی ہے جس کی وجہ سے مقامی غیریب ماہی گیر وں کے روزگار تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ بظاہر وفاقی اور صوبائی سطح پر محکمہ فشریز کا ادارہ قائم ہے لیکن یہ محکمہ ماہی گیروں اور ماہی گیری کے تحفظ کے بجائے ماہی گیروں کو تباہ کرنے ، ماہی گیروں کی زندگیوں کو برباد کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کے اندر شامل کالی بھیڑے سمندری حیاتیات کی نسل کشی کرنے والے بڑے بڑے ٹرالنگ سے ماہانہ کروڑوں کا بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ اور ان کوسمندر تباہ کرنے کا کھلی چوٹ دی گئی ہے۔ 21 نومبر 2016 کو ماہی گیروں کے عالمی دن کے موقع پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ اس اہم شعبہ اور محنت کش ماہی گیروں کی سرپرستی کیلئے اقدامات کریں انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی شوریٰ کے ذریعے مطالبہ کیاکہ ماہی گیروں کو لیبر کادرجہ دیا جائے لیبر پالیسی کے تحت ماہی گیروں کو تمام سہولیات فراہم کی جائے۔ سمندری طوفانوں میں سمندر کے اند رجان بحق ہونے والے ماہی گیروں کے بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے اور ان کے بچوں کی سرپرستی کی جائے۔