|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ نصیرآباد کے علاقے چھتر سے حکومتی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچے بھی لاپتہ ہے کے شکایات تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو موصول ہوئی ہے اس سے پہلے مستونگ سے بھی فٹبالرز کی گمشدگی کی شکایات موصول ہوئی تھی ان دونوں واقعات کے متاثرین سے الزام عائد کیا ہے کہ ہمارے پیاروں کو حکومتی اداروں نے لاپتہ کیا ہے اپنے جاری کر دہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تنظیم انسانی حقوق اداروں کو تجویز دی ہے کہ مذکورہ واقعات میں تحقیقات کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دے کر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے تفصیلات اکٹھا کر کے ایک شفاف رپورٹ اعلیٰ عدلیہ، اسمبلیوں اور بین الاقوامی برادری کو ارسال کی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو قانون کے مطابق انصاف مل سکے اور آئندہ اس طرح واقعات کا تدارک کیا جا سکے ان تنظیموں نے ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے مرکزی عہدیداروں کو اطلاع فراہم کر کے متاثرہ خاندانوں تک رسائی کی کوشش بھی کرینگے تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اعلیٰ عدلیہ ، سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔