|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی زیر صدارت منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں مختلف محکموں میں خالی 25799 آسامیوں پر بھرتی کے لیے پالیسی کی منظوری دے دی گئی ، سیکریٹری خزانہ نے صوبائی کابینہ کو مختلف محکموں میں گریڈ 1سے 17تک کی خالی آسامیاں کے بارے میں بریفنگ دی۔ کابینہ نے ان آسامیوں پر 90دن کے اندر بھرتیاں کرنے کی ہدایت کی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور محکمہ صحت میں پیرا میڈکس اوردیگر ٹیکنیکل آسامیوں پر ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتیاں کی جائیں گی جبکہ گریڈ 1 تا 15 تک کی دیگر آسامیوں پر محکموں کی سلیکشن کمیٹیوں کے ذریعے بھرتی کی جائے گی، جن کے سربراہ متعلقہ محکموں کے سیکریٹری ہونگے، محکموں کو 90دن کے اندر بھرتیوں کا ٹاسک دیا گیا جسے پورا کرنے پر متعلقہ محکمے کے سیکریٹری کو ریوارڈ دیا جائے گا اور جو محکمے مقررہ مدت کے اندر بھرتیوں کا عمل مکمل نہیں کر سکیں گے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی، صوبائی کابینہ کی جانب سے خالی آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں خالصتاً میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ۔ صوبائی کابینہ نے پہلے سے مشتہر کی جانے والی خالی آسامیوں پر کاروائی جاری رکھنے کی منظوری بھی دی، صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں حکومت میں شامل جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں اور اپوزیشن لیڈرپر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جو دبئی، ہانگ کانگ اور سنگاپور ماڈل کی طرز پر سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی ترقی کے تناظر میں مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ ، ان کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشات کے ازالے اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے لیگل فریم ورک کی تیاری اور قانون سازی کے لیے سفارشات مرتب کرے گی، کمیٹی دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر سکے گی، صوبائی کابینہ نے لورالائی، خضدار اور تربت میں نو تعمیر شدہ میڈیکل کالجزمیں اس سال مارچ سے کلاسز کے اجراء کی منظوری بھی دے دی، اس حوالے سے سیکریٹری صحت نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ میڈیکل کالجز میں سیشن کے آغاز کے لیے پی ایم ڈی سی کی تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں، جبکہ ٹیچنگ اسٹاف اور نشستوں کی تخصیص کے حوالے سے کاروائی مکمل کر لی گئی ہے، کابینہ نے پبلک ویلفیئر ہسپتال سوئی کو ایک خود مختار ادارے کی طرز پر چلانے کے لیے قانون سازی کے حوالے سے ڈرافٹ بل کی منظوری بھی دی، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے صوبائی کابینہ کو مردم شماری اور خانہ شماری کے عمل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے تحت اس سال 15مارچ سے ملک بھر میں مردم شماری اور خانہ شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو سو فیصد آزادانہ اور منصفانہ بنیادوں پر کی جائے گی، چیف کمشنر مردم شماری آئندہ ہفتے بلوچستان کا دورہ کریں گے، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مردم شماری کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کرنے کے لیے چیف کمشنر کی جانب سے اسمبلی کو بریفنگ دینے کا اہتمام کیا جائیگا، چیف سیکریٹری بلوچستان نے صوبائی کابینہ کو بیجنگ میں منعقدہ مشترکہ تعاون کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کے 12 اہم منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی کاوشوں سے ان منصوبوں کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے جن میں گوادر کو ڈی سلینیشن پلانٹ کے ذریعے 50لاکھ گیلن روزانہ پانی کی فراہمی ، گوادر ہسپتال کی توسیع، گوادر میں 300میگا واٹ کول پاور پلانٹ کی تنصیب، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا قیام، گوادر نیو ائیرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے کا جلد آغاز جو خطے کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا جہاں A-380 اور دیگر بڑے جہاز بھی اتر سکیں گے، اس کے ساتھ ساتھ کوئٹہ ماس ٹرانزٹ ٹرین سسٹم ، کوئٹہ کو پٹ فیڈر سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ، نوکنڈی ، ماشکیل ، پنجگور شاہراہ کی تعمیر ، ژوب ، مغل کوٹ، ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ فیز۔I کی توسیع، خضدار اور بوستان میں صنعتی زونز کے قیام جیسے بڑے اور اہم منصوبے شامل ہیں، انہوں نے بتایا کہ چینی ماہرین کی ٹیم آئندہ ماہ کوئٹہ ماس ٹرانزٹ ٹرین سسٹم اور چمن میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے کوئٹہ آئے گی، چیف سیکریٹری نے بتایا کہ چین کی کمپنی باؤ اسٹیل نے گوادر فری زون میں اسٹیل ملز کے قیام پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جس پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ 100ارب روپے ہے یہ منصوبہ 16ماہ میں مکمل ہوگا جس میں 10ہزار مقامی محنت کشوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، چیف سیکریٹری نے کابینہ کو گڈانی میں حب چائنا پاور گروپ کے ساتھ 2بلین ڈالر کی لاگت سے 620 میگا واٹ 620 میگا واٹ کے دو پاور پلانٹ کی تعمیر کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں بلوچستان کی 3فیصد حصہ داری ہوگی، جو اب تک پاکستان میں کسی بھی مشترکہ منصوبہ میں سب سے بڑی شراکت داری ہے ، منصوبے سے بجلی کی پیداوار کے آغاز سے بلوچستان کو سالانہ 2ارب روپے کے حساب سے منافع ملے گا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم اور انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو مزید فعال اور متحرک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے اثاثہ جات کا ریکارڈ مرتب کر کے رپورٹ پیش کریں ۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ گوادر بلوچستان کا ہے گوادر کے حوالے سے تمام فیصلے کرنے کا اختیار اور حق بھی ہمیں حاصل ہے، گوادر کی ترقی اور اقتصادی راہداری سے علاقے کی ڈیموگرافی کو تبدیل ہونے نہیں دیا جائیگا اس حوالے سے وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ میرا بھی یہی وژن ہے کہ گوادر کے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے چین کے دوروں اور زمینی حقائق سے چینی حکام کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ گوادر کے مالک گوادر کے عوام ہیں ، جبکہ ہم نے بھی چین میں منعقدہ مختلف اجلاسوں اور چینی حکام سے ملاقاتوں کے دوران اس ضمن میں اپنے موقف کو جاندار انداز میں پیش کر کے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے، انہوں نے کہاکہ گذشتہ دورہ بیجنگ میں بلوچستان کے بڑے منصوبوں کو اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے مختلف چینی کمپنیوں سے اہم مذاکرات بھی کئے اور کوئٹہ ماس ٹرانزٹ ٹرین سسٹم منصوبے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے علاوہ ، گوادر فری زون میں صنعتوں کے قیام کے لیے چینی کمپنیوں سے کامیاب بات چیت کی، بلوچستان واحد صوبہ تھا جس نے براہ راست چینی سرمایہ کاری کے حصول میں کامیابی حاصل کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ مخلوط صوبائی حکومت کامیابی کے ساتھ اپنا سفر طے کر رہی ہے اور ہم آئندہ بھی اسی طرح چلیں گے اور بلوچستان کو پر امن اور ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کر کے عوام کو ایک پرامن اور خوشحال زندگی دیں جس کے لیے انہوں نے ہمیں حق نمائندگی دیا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سے پہلے لوگ اپنی ذمہ داری پوری کر کے چلے گئے ہیں اور اب ہم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں گے، انہوں نے کہا کہ 2002کے بعد بلوچستان جن حالات سے گزرا وہ ہم سب کے سامنے ہے لیکن اب ہم ایسے حالات پیدا ہونے نہیں دیں گے، صوبے کے نوجوانوں کو میرٹ اور شفافیت کے ساتھ باعزت روزگار فراہم کر کے ان کی مایوسی کا خاتمہ کیا جائیگا تاکہ کوئی بھی انہیں اپنے مزموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہ کر سکے، صوبے کے وسائل کو دیانتداری کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائیگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ دنوں خضدار میں منعقدہ سیمینار میں شریک صحافیوں اور مندوبین نے صوبے میں امن کی بہتری کا خود مشاہدہ کیا اور اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو ناصرف برقرار رکھا جائیگا بلکہ مزید بہتر بنایا جائیگا ، وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے بہترین مفاد میں سب کو ساتھ لیکر چلنے اور متفقہ فیصلے کرنے کی روایت کو برقرار رکھا جائیگا، بیوروکریسی ہمارا دست و بازو ہے ہم ملکر کام کریں گے۔