|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں جاری حالیہ آپریشنوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں فورسز کی بربریت عروج پر ہے۔ بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں میں روزانہ کی بنیاد پر شدت لایا جا رہا ہے۔فورسز کی کاروائیوں میں خواتین و بچوں کو پہلے سے ہی نشانہ بنایا جارہا تھا لیکن اب نہتے لوگوں و خواتین کو اغواء کرنے اور قتل کرنے کی کاروائیوں میں وسعت لائی گئی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں فورسز کا آپریشن جاری ہے، ان کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 200لوگوں کو اغوا اور 6نہتے لوگوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ فورسز کی بربریت کو چھپانے کے لئے میڈیا اور صوبائی حکومت یکساں متحرک ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں بیٹھے لوگ عوام کے منتخب شدہ نہیں بلکہ کرپٹ افراد ہیں، بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں پر خود کو بلوچ کے نمائندے کہنے والے یہ ارکانِ پارلیمنٹ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ فورسز کی کاروائیوں کا دفاع بھی کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں تمام امور کو فوج براہ راست کنٹرول کررہی ہے، حکومت کے نام ادارے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ جاری کاروائیوں پر عالمی اداروں کی خاموشی ان کاروائیوں میں وسعت لانے کا سبب بن رہے ہیں۔ انصاف کے عالمی اداروں اور مہذب ممالک کی زمہ داری ہے کہ وہ بلوچ نسل کشی کی کاروائیاں روکنے ، مغوی خواتین سمیت ہزاروں لاپتہ لوگوں کی بازیابی کے لئے اپنا کردار کریں کیوں کہ فورسز کی تحویل میں موجود ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔بی این ایف نے بلوچستان میں بربریت اور بلوچ خواتین کی اغوا کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا میں ایک آن لائن مہم کا اعلان کیا ہے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے سوشل میڈیا کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کل 11گیارہ جنوری کو شام (6)چھ بجے سے (10)دس بجے تک #BringBackBalochWomenکے ہیش ٹیگ کا استعمال کرکے بلوچ خواتین کے اغواء کے مسئلے کو ہائی لائٹ کریں۔