|

وقتِ اشاعت :  

گزشتہ ایک ہفتے سے قطر شیخ کی جانب سے وفاقی وزیر (ر) جنرل عبدالقادر بلوچ کی کاوشوں سے خاران اور واشک کو پانچ پانچ ایمبولینس کی فراہمی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک مہم جاری ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے جنرل صاحب کی عوام دوستانہ پالیسی کو داد دی جا رہی ہے کہ خاران اور واشک جیسے پسماندہ اضلاع میں پانچ پانچ ایمبولینس کی فراہمی سے علاقے کے لوگوں کے مسائل میں کمی آئے گی اور غریب وناداروں کو بر وقت ہسپتال پہنچانے کی سہولت موجود ہوگی جو ایک مثبت عمل ہے اور امید کرتے ہیں کہ ہر علاقے کے عوامی نمائندے بھی اسی طرح اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور آنے والے مہمان شیخ جو شکار کیلئے آتے ہیں اُن سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے نایاپ پرندوں کی شکار پر پابندی کے بجائے شکار کیا جاتا ہے لیکن اس کے بدلے میں علاقے میں ایمبولینس کی فراہمی سمیت دیگر سماجی کاموں میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی ۔خاران اور واشک کو ایمبولینس کی فراہمی سے عوامی حلقوں میں اس عمل کو سراہا گیا ہے لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے ایک سوال ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ وفاقی وزیر (ر) عبدالقادر بلوچ خاران واشک اور پنجگور سے انتخابات میں کامیاب ہو کر وفاق میں پہنچے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنرل صاحب خاران واشک کے علاوہ پنجگور کے بھی ایم این اے ہیں اور یہاں سے بھی بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو چکے ہیں ۔جنرل صاحب کی پنجگور کے عوام کیلئے کئے گئے اقدامات قابل فخر ہیں کہ انہوں نے اپنے دورحکومت میں پاسپورٹ آفس کے قیام، پروم کو بجلی کی فراہمی کے ساتھ زراعت کیلئے کروڈوں روپے کے فنڈز فراہم کئے ہیں لیکن جنرل صاحب آپ شاید اس بار پنجگور کو بھول چکے ہیں یا آپ کے ذہن سے پنجگور نکل گیا ہے ۔آپ سے عرض ہے کہ پنجگور کے بھی عوام کو ایمبولینسز کی بھی ضرورت ہے اور پنجگور کے دور دراز کے علاقوں کے لوگ بھی بیمار پڑ جاتے ہیں اور اُن کو لانے کیلئے ایمبولینس کی ضرورت ہوتی ہے ۔جنرل صاحب آپ جناب کی معلومات میں ایک اور اضافہ کرنے کی جسارت کرکے آپ سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ پنجگور سے آپ کافی ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے ہیں اور آپ کی کامیابی میں پنجگور کے گاؤں گاؤں کے رہنے والے ہر فرد کا ووٹ شامل ہے ۔اور انہی غریب اور نادار ووٹرز کو ایمبولینس کی بھی ضرورت ہوگی ۔جنرل صاحب پنجگور کے دیہی علاقوں سمیت شہر میں ایسے غریب اور نادار لوگ رہتے ہیں جن کے گھروں میں دو قت کی روٹی تک دستیاب نہیں اگر کسی ایمرجنسی یا بیماری کی حالت میں آپ کی جانب سے بھی پنجگور کے عوام کو پانچ ایمبولینس فراہم کی جاتی ہیں تو یہ لوگ آپ کو دعائیں بھی دیں گے اور آنے والے وقت میں بھی آپ اسی علاقے سے دوبارہ ووٹ جیت کر وفاق میں پہنچ سکتے ہیں ۔جنرل صاحب آپ کے پارٹی ورکرز نے کافی کھایا ہے ان چار سالوں میں اور میرا قطعاً مقصد یہ نہیں کہ اُن کا کھانا پینا بھی بند کیا جائے لیکن عرض ہے کہ اگر مزید ایمبولینس نہیں ہے لیکن آپ پنجگور کے عوام کیلئے ان دس ایمبولینس سے تین ایمبولینس پنجگور کو فراہم کریں تو میںآپ کی سیاسی سوچ کو سلام کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتا ۔اگرچہ جناب رحمت صالح نے پنجگور کو بہت سے ایمبولینس فراہم کئے ہیں لیکن اس علاقے کے آپ بھی قرض دار ہیں کیونکہ آپ کا تعلق وفاق سے ہے ۔امید کرتے ہیں کہ آپ اپنی سیاسی سوچ کو مزید مثبت بنا کر یہ عرض سنیں گے اور مجھ جیسے ایک معمولی قلم کاراور صحافی کی گستاخی کو در گزر کرکے اپنی فراخ دلی کا مظاہرہ کریں گے کیونکہ ہم بچے ہیں اور آپ ایک جہاں دیدہ اور فراخ دل سیاست دان کے ساتھ ایک مہربان انسان ہیں ۔