|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: سانحہ آٹھ اگست پر قائم عدالتی کمیشن کی رپورٹ حکومت کیخلاف چار شیٹ ہے، صوبے کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے، مردم شماری سے انکار پنجاب کی مفادات کی تکمیل کیلئے ہیں، ان خیالات کا اظہار اے این پی صوبائی صدر اصغر اچکزئی ، رکن صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے پریس کلب کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ سانحہ آٹھ اگست صوبے کے تاریخ کی بدترین دہشت کردی تھی جس میں صوبے کے تعلیم یافتہ طبقہ کو نشانہ بنایا گیا مگر افسوس سے کہ حکومت عدالتی کمیشن کے فیصلے پر عملدآمد سے قاصر ہے ایک جانب حکومت میں سانحہ آٹھ اگست ، پی ٹی سی کے ذمہ دارروں اور بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کے قتل میں ملوث افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے اگر حکومت کو پہلے سے معلوم تھاتو سانحات سے قبل کیوں حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے گئے آیا وہ اس انتظار میں تھے کہ تین چار سو جنازہ اٹھانے کے بعد اقدامات کیے جائیں گے عدالتی کمیشن کی رپورٹ اگر منظر عام پر نہ اتھی تو شاہد یہ معاملہ سردخانہ کی نظر ہوجاتا سی پیک منصوبہ میں چھوٹی قومیتوں کا نظرانداز کیا جارہا ہے سی پیک کے حوالے سے صوبائی حکومت کی خاموشی معنی خیر ہے ایک جانب سے سندھ اور پنجاب میں ترقیاتی کام جاری ہیں تو دوسری جانب بلوچستان میں منصوبے کے حوالے سے ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ہے ، مردم شماری پر سیاست کے قائل نہیں، مردم شماری کو اپنے لیے مرگ وزیست کا مسلہ قرار دینے والے گوادر ، سیندک اور ریکوڈک منصوبے کے دفاع کے لیے جدوجہد کریں ساتھ دیں گے ،جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی ، حاجی نظام الدین کاکڑ ،عبدالمالک پانیزئی، امیر علی آغا ،، جمال الدین رشتیا،ملک ابراہیم کاسی ،بلوچستان بارایسوسی ایشن کے راحب بلیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل اے این پی کی جا نب سے ریلی نکا لی بھی نکا لی گئی جس کے شر کا ء نے مختلف شاہرا ہوں کا گشت کیا شر کا ء نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر سانحہ 8اگست جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف نعرے اور مطالبات درج تھے ۔ اس موقع صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدراصغر خان اچکزئی ، صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی اور دیگر مقررین نے کہا کہ اس شدید سردی میں اے این پی کے کارکنو ں سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے پر صوبائی حکومت نے خود مجبور کیا ہے صوبے میں حالات کی بہتری اور گڈ گورننس کے دعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے 8اگست کو جو افسوسناک سانحہ پیش آیا حکومت نے اسے بھلا دیا ہے مگر غمزدہ اور متاثرہ خاندانوں کے لئے یہ سانحہ عمر بھر کا روگ بن چکا ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ افسوسناک واقعے کے بعد حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتی مگر بجائے ناکامی کے اعتراف کے وزراء اور حکومتی اراکین نے ایسے ایسے بیانات دیئے جس سے متاثرہ خاندانوں کو مزید تکلیف پہنچی سپریم کورٹ کے حکم پر جو ڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جس کی رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے یہ رپورٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ بھی ہے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے بھی اس کمیشن میں سفارشات کی گئی ہیں مگرافسوسناک طور پر حکومت اس کمیشن کی رپورٹ پر بجائے عملدرآمد کرانے کے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں شامل بعض اراکین اور وزراء یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ اب صوبے کے حالات بہتر ہوگئے ہیں اور شاہراہیں محفوظ ہیں جن پر لوگ راتوں کو سفر کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی صوبے کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ موجودہ دور میں ایسے ایسے سانحات پیش آئے جس میں صوبے کے عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوا وہ لوگ جو آج حکومت میں ہیں وہ کل تک جب اپوزیشن میں تھے پریس کلب کے باہر اوردیگر مقامات پر جنازے رکھ کر احتجاج کرتے تھے ان لوگوں نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ پر خوشیاں منائیں مگر آج چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی قسم کے غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے حکومت کا خاتمہ ہو لیکن یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ حکمران اخلاقیات کا مظاہرہ کریں اپنی اہلیت ثابت کرتے ہوئے کام کریں یا پھر اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران غیر جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں اس لئے وہ جمہوریت اور جمہوری طریقہ احتجاج کو خاطر میں نہیں لارہے عوام پر ان کی اصلیت واضح ہوچکی ہے اور ا ن کی قوم دوستی اور وطن دوستی روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہوچکی ہے ا ن کی اہلیت اور ان کے گڈ گورننس کے دعوے ہوا میں اڑ چکی ہے حکمرانوں نے نااہلی اور غفلت کی انتہا کردی ہے لوگوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے اب برادر اقوام کے مابین نفرتوں کو ہوا دی جارہی ہے جس کی عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پشتون بلوچ ہزارہ اور یہاں آباد دیگر اقوام کے مابین اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کی بات کی ہے اور اس حوالے سے اپنا کردار بھی ادا کیا ہے اب کسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ برادر اقوام کے مابین نفرتیں پھیلائے۔ اے این پی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ حقیقی طو ر پر مرگ و زیست کا مسئلہ گوادر ،ریکوڈک ،سیندک کا ہا تھ سے نکل جا نا،سما لنگ اور مسلم باغ کے معدنیات پر ٹیکس عائد کر نا ہے مردم شما ری نہیں