|

وقتِ اشاعت :  

کابل: افغان صوبہ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبدالرازق نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔بدھ کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق جنوبی صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ روز گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔انکا کہنا تھاکہ حقانی نیٹ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی صوبائی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے طویل مدت سے کام کررہے ہیں۔مزید وضاحت کیے بغیر انکا کہنا تھاکہ حکومتی عمارتوں پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں دریں اثناء افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کا بہترمفاد افغان حکومت کے ساتھ ہے،کچھ ممالک اچھے برے دہشتگردوں میں فرق کرتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ جودہشتگردملک سے باہرکارروائیاں کریں وہ اچھے دہشتگردہوتے ہیں،اسلامی ممالک افغانستان میں امن کے لیے مدد کریں، طالبان ا پنے آپ کودہشتگرد گروپوں سے علیحدہ کریں ،دہشتگرد گروپ اسلامی ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔ایک عرب اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھاکہ طالبان ا پنے آپ کودہشتگرد گروپوں سے علیحدہ کریں ،دہشتگرد گروپ اسلامی ممالک کے لیے خطرہ ہیں،سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک شدت پسندرہنماوں پرمفاہمت کیلئے دباو ڈالیں۔افغانستان کے سعودی عرب،یواے ای اے سمیت اسلامی ممالک سے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کا بہترمفاد افغان حکومت کے ساتھ ہے، داعش پورے خطے کیلئے خطرہ ہے۔انکا کہنا تھا کہ کچھ ممالک اچھے برے دہشتگردوں میں فرق کرتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ جودہشتگردملک سے باہرکارروائیاں کریں اچھے دہشتگردہوتے ہیں۔