|

وقتِ اشاعت :  

کراچی: بلوچستان کے علاقے گڈانی میں واقع شپ بریکنگ صنعت میں گذشتہ تین ماہ میں 32 مزدور زندگی کی بازی ہار چکے ہیں لیکن اس کے باوجود سیفٹی اور سکیورٹی کے انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما ناصر منصور اور دیگر رہنماؤں نے بدھ کو ایک پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور لیبر قوانین نافذ کرنے والے ادارے بے حس ہیں، یہی وجہ ہے کہ حادثات کے ذمہ داران قانون کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں جب کہ مزدوروں کے خاندان مسلسل اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں۔

زدور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یکم نومبر کو ہونے والے حادثے کی ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات ہوئی اور نہ اس کے ذمہ داران کو سزا ہوئی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدورں میں سے اکثر کومعاوضے کی ادائیگی بھی ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی سانحے میں لاپتہ ہونے والے مزدوروں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔

‘اس حادثے میں 26 مزدورں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تمام شپ بریکنگ یارڈ زکو رجسٹرڈ کیا جائے گا اور ورکرز کو خصوصی کارڈ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سوشل سیکورٹی اور پنشن کے اداروں سے رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ ہیلتھ اور سیفٹی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا لیکن یہ محض وعدے ہی ثابت ہوئے اور گذشتہ ایک ہفتے میں مزید چھ ورکرز ہلاک ہوگئے۔’

ناصر منصور کا کہنا تھا کہ ملکی فولاد کی ضروریات کا 30 فیصد فراہم کرنے والی اس صنعت سے دس ہزار سے زائد ورکرز کا براہِ راست اور 100 سے زائد ری رولنگ ملز اور دیگر ذیلی صنعتوں میں 20 لاکھ سے زائد مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے جو پابندیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما کے مطابق انھیں بطور ِ مزدور یہ خدشہ ہے کہ ان حادثات کی آڑ میں گڈانی شپ بریکنگ کو بند کرنے کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ اس زمین کو مخصوص مقاصد کے لیے خریدا جا سکے۔

پاکستان لیبر اینڈ ریسرچ انسٹیٹوٹ کے سربراہ کرامت علی کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شپ بریکنگ یارڈ میں ان حادثات کی روک تھام کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی جائے، جس کی تیاری جاری ہے۔

انھوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ صوبائی محکمہ محنت کے ذریعے شپ یارڈ میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور لیبر انسپیکشن کا مناسب انتظام کیا جائے۔حادثات کی صورت میں فائر برگیڈ اور ایمبولینس کی سہولیات کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

وفاقی اور صوبائی حکومت نے گڈانی میں بحری آئل ٹینکر میں آگ کے بعد 26 مزدوروں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائی تھیں لیکن ان کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی ہے۔