|

وقتِ اشاعت :  

راولپنڈی: چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نیب کی پلی بارگین پالیسی کی دفاع میں سامنے آگئے، ان کا کہنا ہے کہ سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی سے تقریباً 3ارب روپے سے زائد وصولی کی، یہ رقم بلوچستان کو ترقیاتی کاموں کیلئے دی جارہی ہے، چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کا راولپنڈی چیمبر کی تقریب سے خطاب میں مزید کہنا ہے کہ عدالتیں ملزمان کو مناسب نہیں بہت کم سزا دیتی ہیں، کرپشن کا مسئلہ گھمبیر ہے، درخواستیں بہت زیادہ مگر شواہد ناکافی ہوتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے چین کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے تاکہ سی پیک میں سرمایہ کاری کی شفافیت یقینی بنائی جائے، قمر زمان نے کہا کہ ان کے پاس سوموٹو کا اختیار ہے، مگر استعمال بہت کم کرتے ہیں، عدالتیں ملزمان کو مناسب نہیں، بہت کم سزائیں دیتی ہیں اس موقع پر راولپنڈی چیمبرآف کامرس کے صدر راجاعمر نے کہا کہ سی پیک میں سرمایہ کاری سے متعلق نیب کے معاہدے پر چیمبر اور کاروباری طبقہ بہت مطمئن ہوا ہے ،چیئر مین نیب قمر زمان چوہدرین ے کہا ہے کہ کرپشن سے متعلق بہت زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں 80فیصد درخواستیں نیب میں ناکافی شواہد پر ابتدائی مرحلے میں خارج کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرے پاس سوموٹو کا اختیار ہے لیکن بہت کم استعمال کرتا ہوں۔ نیب صرف انہی کیسز کی انکوائری اور تحقیقات کرتا ہے جس میں شواہد ہوں اور نیب از خود کسی کیس کی تفتیش یا تحقیقات نہیں کرتا۔ نیب کا مقصد ہی کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امقیات کارروائی کرنا ہے اور کرپشن سے متعلق ہر معاملے رپ بلا امتیاز کارروائی کرتا ہے اور کرپشن سے متعلق ہر معاملے پر بلا امتیاز اور بغیر دباؤ کے کارروائی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ دہشتگردی کے باعث کاروبار پر متاثر ہوا لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ دہشتگردی ایک پرانا مسئلہ ہے جس میں کافی کمی آئی ہے ۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں کاروباری طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔