|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: لاپتہ بلوچ اسیران اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو کراچی میں 2560 دن ہو گئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کئی برسوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہے جس کے لئے ہمارے تنظیم نے مختلف طریقوں سے احتجاج کیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈیرہ بگٹی، کاہان، کوہلو، مکران، بولان کے علاوہ چھتر سے بھی خواتین لاپتہ ہو رہی ہے اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائی جا رہی جمہوری حکومت ہو یا کوئی اور حکومت ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق کے زور سے نکالنے کی کوشش کر تے ہیں لیکن طاقت سے دنیا کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے بلوچوں کی نسل کشی کو روکنے کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز اٹھائیں ۔