|

وقتِ اشاعت :  

بلوچستان کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے۔ ان کو قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دوسرے سرکاری دستاویزات جاری کیے گئے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے اور دوسری جانب غیر قانونی تارکین وطن خصوصاً افغان شہری پاک افغان سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرکے آتے رہتے ہیں ان سب کو معاشی مہاجر کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے اور ان کو تمام تر سہولیات میسر ہیں کہ وہ جس قسم کی چاہیں روزگار اور تجارت کریں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس صورت میں لاکھوں ملازمتوں پر ان غیر ملکی تارکین وطن کا ’’قانونی‘‘ قبضہ ہوچکا ہے اور حکومت سیاسی مصلحت کے تحت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔ بلکہ اس کے برعکس پریشر گروپ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کا دفاع کریں اور ان کے ناجائز مفادات کی نگرانی کریں۔ اس تنازعہ کے باعث عوام الناس میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ صوبوں کی دوبارہ حد بندی کی جائے اور افغانستان کے مفتوحہ علاقے جو زبردستی اور عوام کی مرضی کے خلاف بلوچستان میں اور انتظامی وجوہات کی بناء پر شامل کیے گئے ہیں ان کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے میں شامل کیا جائے یا اس علاقہ پر مشتمل ایک نئی قبائلی ایجنسی بنائی جائے اور ان علاقوں کا کنٹرول کوئٹہ کے بجائے پشتونوں کے مرکزی شہر پشاور منتقل کیا جائے ۔ان کو بلوچستان اسمبلی کے بجائے کے پی کے کی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے جو بلوچستان سے زیادہ دولت مند اور ترقی یافتہ صوبہ ہے۔ اور بلوچوں کے علاقے ڈیرہ غازی خان اور اس کے ملحقہ علاقوں اور جیکب آباد کو بلوچستان میں شامل کیا جائے جو کہ تاریخی طور پر بلوچستان کا حصہ رہے ہیں۔پشتونوں کے لیے اگر ان تمام پشتون علاقوں پر مشتمل ایک وسیع ترصوبہ بنایا جائے تو بلوچستان کے لوگ اس کی حمایت کریں گے تاکہ تمام افغان مہاجرین اگر وہ پاکستان میں رہنا چاہیں تو ان کو اس وسیع تر پشتون صوبہ میں جگہ دی جائے۔