|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے حکومت سے پیر تک اسلام آباد سے پانچوں لاپتہ شہریوں کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ۔انھوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پرمشترکہ لائحہ عمل واضح کریں اس ضمن میں انھوں نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی ڈیوٹی لگا دی ہے ۔ جب کہ وزیر قانون زاہد حامد نے سینیٹ کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے مطابق اسلام اباد سے مزید کسی شہری کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں۔ رضا ربانی نے وزیرموصوف کو آگاہ کیا کہ گھر والوں کے مطابق اسلام آباد سے ایک شہری اٹھایا گیا ہے اور شدت کے ساتھ میڈیا میں بھی یہ معاملہ آرہا ہے ۔چیرمین سینٹ نے ہدایت کہ اسلام اباد پولیس سے رابطہ کر کے مکمل معلومات حاصل کی جائیں ۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ پولیس کو کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سے پانچویں شخص کے اغوا کی اطلاعات کے معاملہ دیکھے۔چیرمین سینیٹ رضاربانی نے ہدایت کی کہ پیر تک پانچوں اغواء شہریوں کے بارے میں ایوان میں رپورٹ دی جائے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے معاملہ اٹھایا کہ ملک مین لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر قانون سازی کی جانی تھی۔حکومت نے ساٹھ دن میں بتانا تھا کہ اس معاملے پر قانون سازی کیوں نہیں کر رہی ۔حکومت نے ساٹھ دن میں کچھ نہیں بتایا۔ پہلے لوگ فاٹا اور بلوچستان سے غائب ہوتے تھے۔اب تو اسلام آباد سے لوگ غائب ہو رہے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے چار افراد کو بازیاب کرانے کا اعلان کیا چار لوگ بازیاب نہ ہوئے ،پانچواں بھی غائب ہو گیا۔ پانچویں شخص ہو اتھا کر پارلیمنٹ کو ایک پیغام دیا گیا ۔پارلیمنٹ کو میسج دیا گیا کہ،، ہور چوپو،، رضا ربانی نے کہا کہ لوگوں کو غائب کر کے پارلیمنٹ کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے ۔ واضح کرتا ہوں پارلیمنٹ کسی گروپ سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ۔انھوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کو ہدایت کی وہ لاپتہ افراد کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں سے بات کریں، چیئرمین سینٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ شہریوں کے اغواپر آنکھیں بند نہیں کر سکتی, ۔ ایوان میں بچوں پر تشدد کی بازگشت بھی ایک بار پھرسنائی دی۔چیرمین سینیٹ نے کہا کہ معاشرہ بے حس ہو چکا ہے بچوں پر تشدد ہو رہا ہے اور کم خاموش بیٹھے ہیں ۔ انھوں نے ایک بار پر انتہائی سخت ریمارکس دیئے کہ بچوں کے معاملے پر ریاست ماں کی بجائے چڑیل کا کر دار ادا کر رہی ہے ۔چیئرمین سینٹ نے ایوان کو بتایا کہ سندھ سے ایک خوشخبری آئی ہے کہ ہمارے نوٹس پر نصاب میں جمہوریت کی نفی کے معاملے پر ایکشن ہوا ہے۔نصاب کے اندر جمہوری کی نفی اور آمریت کی حوصلہ افزائی ہورہی تھی جس کا نوٹس لے لیا گیاہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں یہ رپورٹ ایک ٹی وی کے پروگرام میں دکھائی گئی تھی۔ سندھ حکومت نے نصاب میں تبدیلی کرکے جمہوریت کے فوائد شامل کر دیئے ہیں۔ دریں اثنا سینٹر میر کبیر نے خیبر ایجنسی میں پولیو کے قطرے پینے والے پانچ شیر خوار بچوں کی موت واقع پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور کہا کہ دنیا کے تین ممالک پاکستان افغانستان اور نائجیریا میں پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں پولیو کے حوالے سے پروپیگنڈا بھی ہوا۔پولیو کے قطرے سخت حفاطتی حصار میں پلائے جاتے رہے ۔اب پھر ناقص یا زائد المعیاد قطرے پلاکر لوگوں کو پراپیگنڈہ کا موقع دیا اسکی تحقیقات کی جائیں۔وفاقی وزیرپارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا فوری طور پر بچوں کی اموات واقع نہیں ہوئی ایک بائیس اور ایک چھ دن بعد فوت ہوا۔ریاست کے لئے سب سے اہم انسانی جان ہے۔اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں نمونہ جات کے ٹیسٹ بھی کروائے جارہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ معاملہ کی تہہ تک آپ نہیں پہنچ سکے۔ جب کہ ابتدائی رپوٹ میںآیا کہ سب اچھا ہے۔شیخ آفتاب نے کہا کہ اس کی تہہ تک متعلقہ وزیر ہی پہنچ سکتے ہیں،بچوں کی اموات قطرے پینے سے نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر شیخ افتاب نے بتایا کہ پولیو ویکسین پینے کے بعد بچوں کی اموات کا پہلا واقعہ ہے خیبر ایجنسی میں بچوں کی اموات کی تحقیقات کی گئی ہیں۔مرنے والے بچون کے والدین نے پوسٹ مارٹم نہیں کرنے دیا ۔پولیو ویکسین درست تھی, عملے نے لاپرواہی نہیں کی۔پوسٹ مارٹم کے بغیر بچوں کی اموات کا پتہ لگانا ممکن نہیں ۔پاکستان پولیو کی محفوظ ترین ویکسین استعمال کرتا ہے ۔چیرمین سینیٹ نے واضح کیا کہاابھی سے تحقیقاتی ٹیم کے مطابق سب اچھا ہے حکومت اخبار میں اشتہار دے کہ بچوں کی موت پولیو ویکسین سے نہیں ہوئی ۔شیخ آفتاب نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ بچوں کی موت پولیو ویکسین سے نہیں ہوئی۔, رضا ربانی نے تشویش ظاہر کی کہ سارے بچے پولیو کے قطرے پی کر ایک ساتھ کیسے مر گئے۔سینیٹر روبینہ خالدنے کہا کہ بچوں کی موت کو پولیو کے قطروں سے نہ جھوڑا جائے۔اس سے لوگ بچوں کو پولیو ویکسین پلانا بند کر دیں گے۔نکتہ اعتراض پرایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ملک میں گیس کی لوڈ شیڈنگ بڑھ گئی ہے۔بروقت کھانا اور ناشتہ نہ ملنے پر گھروں میں جھگڑے ہو رہے ہیں ۔میرا بھی بیگم سے اس بات پر جھگڑا ہو جاتا ہے ۔ناشتہ وقت پر نہ ملے تو لڑائی ہو ہی جاتی ہے۔ بیگم کہتی ہیں سینٹ میں گیس کے مسئلے پر بات کرو۔, چیئرمین سینٹ نے بھی گیس کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ واقعی سنگین مسئلہ ہے۔میاں عتیق آپ گھر جائیں, آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ چیرمین سینٹ نے مسلم لیگ (ن) سینیٹر نزہت صادق کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد چڑیا گھر کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لے کر ایوان کو بتائیں۔۔سینیٹر عثمان کاکڑنے نکتہ اعراض پر کہا کہ ملک میں پشتونوں کے شناختی کارڈز بلاک کیے جا رہے ہیں۔شناختی کارڈز بلاک ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔شناختی کاردز بلاک ہونے سے لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔پشتونوں کے سناختی کارڈز کو بحال کیا جائے۔ وفاقی وزیرقانون و انصاف زاہدحامد نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران واضح کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد سے مزید کسی شہری کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں اس بارے میں پولیس رپورٹ بھی خاموش ہے۔شاہی سید نے کہا سودی نظام اللہ و رسول سے جنگ ہے انھوں نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ کیا یہ جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔ , وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی جتوئی نے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا اس وقت سٹیل ملز کو بیل آوٹ پیکج دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں نجکاری کمیشن اسے بیچنے یا شاید لیز آوٹ کرنے پر غور کر رہا ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ وہ سٹیل ملز کو لیز آوٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔ایرانی اور چینی کمپنی نے پاکستان سٹیل ملز کو لیز پر لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے,۔وزیرقانون و انصاف زاہدحامد نے کہا بی آئی ایس پی کے تحت شروع کیے گئے وسیلہ حق اور وسیلہ روزگار پروگرام کو 2013 میں بند کر دیا گیا۔ان پروگرامز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے ۔بی آئی ایس پی کے بورڈ نے وسیلہ حق اور وسیلہ روزگار پروگرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔بورڈ کی نظر میں پروگرام کا ڈیزائن درست نہیں تھا ۔وسیلہ حق کے تحت 3 لاکھ روپے دیتے تھے لیکن جن کو یہ رقم دی گئی یا تو وہ زیادہ عمر کے تھے یا وہ اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ وسیلہ روزگار پروگرام کے 58 ہزار سے زائد بینیفشری تھے ۔بورڈ کی نظر میں اس پروگرام کا بھی ڈیزائن درست نہیں تھا۔حکومت نے بی آئی ایس پی پروگرام کو بہت وسیع کیا ہے۔