|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین کو بحال کرنے اور پی آئی اے کے خستہ حال طیاروں کے استعمال پر پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ ٹکٹ کی منسوخی پر عائد چارچز کی شرط کو ختم کر نے اور عوام کو ہوائی سفر کی زیادہ اور بہتر سہولیات سے متعلق 2 قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی بلوچستان ریزیڈیشنل کالجز سے متعلق قرارداد حکومت کی مثبت یقین دہانی پر نمٹا دی گئی اور صوبائی وزراء اراکین اسمبلی کے خلاف بعض ٹھیکیداروں کی جانب سے اخبارات میں شائع اشتہار سے متعلق استحقاق مجروح کے حوالے سے تحریک کمیٹی کی سپرد کر دی گئی جو ایک ماہ میں رپورٹ دینگے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل رکن یاسمین لہڑی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن آغا سید لیاقت نے ایوان میں تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض ٹھیکیداروں نے مختلف اخبارات میں ایک اشتہارچھاپا ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزراء اورا راکین اسمبلی ان سے رشوت طلب کرتے ہیں اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر تحریک استحقاق کو زیر بحث لایا جائے انہوں نے کہا کہ اشتہار میں یہ الزام عائد کیاگیا ہے کہ اراکین اسمبلی اپنی مرضی کے افسران تعینات کرتے ہیں اور پھران سے ٹھیکوں کی مد میں رشوت طلب کی جاتی ہے یہ بہتان ہے جو تمام اراکین اسمبلی پر لگایا گیا ہے یہ انتہائی دکھ کی بات ہے جس سے ہم سب کی توہین ہوئی ہے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ عدالت جاسکتا ہے مگر یہاں اشتہار چھاپا گیا ہے انہو ں نے تجویز دی کہ اس استحقاق کو ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے اور وہ ٹھیکیدار جنہوں نے یہ اشتہاردیا ہے تمام محکموں میں ان کی کمپنیوں کی ان لسٹمنٹ ختم کی جائے ۔ پرنس احمد علی نے کہا کہ جن ٹھیکیداروں نے یہ الزام تراشی کی ہے ان سے باز پرس ہونی چاہئے یہ ایک انتہائی سنجیدہ ایشو ہے کیونکہ بلوچستان میں پروکیورمنٹ اور ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جس کے بورڈ کی میٹنگ میں میں خود بھی شریک رہا ٹینڈرنگ اور پروکیورمنٹ ہر چیز قواعد وضوابط کے مطابق ہورہی ہے ٹھیکیداروں نے نہ صرف الزام تراشی کی ہے بلکہ تمام محکموں کو بھی میں اس ملوث کیا ہے ۔جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے بھی اشتہار کی اشاعت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم منتخب ہو کر آئے ہیں یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے جو ہم پر لگایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ الزام لگانا آسان ہے آپ ثابت کریں ہم پر صرف غلط الزام لگا کر ہمیں بدنام کیا گیا ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ متعلقہ اداروں کے پاس جائے اس اشتہار میں بلوچستان اسمبلی کے65اراکین کو مسٹر ٹین پرسنٹ بنادیا گیا ہے اس لئے یہ استحقاق متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کی جائے ۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے جمعے کے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار کو عوام کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم منتخب لوگ ہیں منتخب ہو کر آئے ہیں ہمیں عوام نے ووٹ دیا ہے اس اشتہار سے ہم سب کی توہین ہوئی ہے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبدالمجید خان اچکزئی نے کہا کہ یہ سب کچھ موجودہ چیف سیکرٹری کی وجہ سے ہورہا ہے پرانے اے سی ایس جن کو معطل کیا گیا ہے وہ بھی اس کے یاسمین لہڑی نے کہا کہ تحریک استحقاق پر ارکان نے شدیدتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اشتہار دینے والوں کے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے اشتہار ات کی روک تھام کی جائے انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا معاشرے میں بہت احترام ہوتا ہے اس اشتہار سے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے انہو ں نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مذکورہ اشتہار دینے والے ٹھیکیداروں کے ٹھیکے اس وقت تک معطل کریں جب تک استحقاق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش نہیں کی جاتی اور انہوں نے استحقاق کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تیس دن کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران شاہدہ رؤف کی عدم موجودگی پر ان کے پوچھے گئے سوالات موخر جبکہ سردار عبدالرحمان کھیتران اورعارفہ صدیق کے سوالات نمٹادیئے گئے وقفہ سوالات میں مختلف مواقع پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ ادویات کی خریداری قوانین کے مطابق کی گئی ہے ضلع بارکھان کے مرکزی ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ دینے اور رکھنی میں قائم بنیادی مرکز صحت کو آر ایچ سی کا درجہ دینے کے لئے وہ جلد ہی سمری وزیراعلیٰ کو بھجوائیں گے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے ایوان میں قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قائم بلوچستان ریذیڈنشل کالجز کو تعلیمی میدان میں ایک اہم اور منفرد مقام حاصل ہے جس کا واضح ثبوت بورڈ کے سالانہ امتحانات میں پوزیشنز کا حاصل کرنا ہے لیکن افسوس کہ ان کالجزکے ایکٹ 2005ء کی شق نمبر14اے میں ریگولر بجٹ کی بجائے لفظ گرانٹ استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کالجز میں تعینات اساتذہ و اہلکاران کے ساتھ ساتھ طلباء میں بھی بے چینی اور احساس محرومی پایا جاتا ہے اس لئے بلوچستان ریذیڈنشل کالجز کے ایکٹ2005ء کی شق نمبر 14اے میں لفظ گرانٹ کی بجائے لفظ ریگولر بجٹ کے استعمال کو یقینی بنائے تاکہ مذکورہ کالج کے اساتذہ کرام و اہلکاران اور طلباء میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کے خاتمے کا ازالہ ممکن ہوسکے ۔مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی نے کہا کہ ریذیڈنشل کالجز کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا ہے جس میں اس سلسلے میں بڑی حد تک پیشرفت ہوئی ہے انجینئرزمرک خان نے کہا کہ گزشتہ اجلاسوں میں بھی اس حوالے سے قرار دادیں منظور ہوتی رہی ہیں حکومت ان کالجز کے اساتذہ کے تمام مطالبات پر عملدرآمد کرے چیئر مین پی اے سی عبدالمجید خان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے وزیرتعلیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ان اداروں کے اساتذہ سے مذاکرات کئے تھے جن میں یہ طے ہوا تھا کہ ان کے اہم مطالبات پر عملدرآمد ہوگا ان کا الاؤنس منجمد ہوا جس کی سمری چیف سیکرٹری کو بھجوائی گئی جنہوں نے اعتراض کیا کہ کیڈٹ کالجز کو بھی یہ الاؤنس دینا ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ قرار داد منظور کرکے ریذیڈنشل کالجز کے اساتذہ کو پریشانی سے نجات دلائی جائے جمعیت العلماء اسلام کے مفتی گلاب کاکڑ نے کہا کہ ریذیڈنشل کالجز کی کارکردگی معیاری ہے انہیں مزید سہولیات دی اور اساتذہ کے مطالبات تسلیم کئے جائیں صوبائی مشیر قانون سردار رضا محمد بڑیچ نے کہا کہ اس سلسلے میں کچھ قانون اور کچھ مالی نکات ہیں خودمختار اداروں کو ریگولر کرنے کا اپنا ایک طریق کار ہے اس صورتحال کو ہم دیکھ رہے ہیں وزیرتعلیم کے آنے پر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا ان کی مثبت یقین دہانی پر قرار داد نمٹادی گئی ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال2015ء میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے یوٹیلٹی سٹورز کے لئے اخبارات میں مختلف اسامیوں پر بھرتیوں کے لئے اشتہارات مشتہر کئے گئے بے روزگار نوجوانوں نے ملازمت کے حصول کی غرض سے درخواستیں بھی جمع کرائیں لیکن تاحال ان خالی آسامیوں کوپر نہیں کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب صوبے کے مختلف سٹورز خاص کر ضلع پشین کے یوٹیلٹی سٹورز میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین بلا وجہ برطرف کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ملازمین اور بے روزگار نوجوانوں میں احساس محرومی و بے چینی پائی جاتی ہے اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ ملازمت سے بر طرف کئے گئے صوبہ بلوچستان کے یوٹیلٹی سٹورز کے ملازمین کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ مشتہر کردہ آسامیوں پر حق دار امیدواروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔