|

وقتِ اشاعت :   January 17 – 2017

اسلام آباد:وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری اور وفاقی وزیر پیٹرولیم وقدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کے درمیان سیندک سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے ہونے والی ملاقات میں سیندک منصوبے کی چینی کمپنی ایم سی سی کی لیزکی مدت ختم ہونے پر اکتوبر2017میں سیندک منصوبہ بلوچستان حکومت کے حوالے کرنے سے اصولی طور پر اتفاق کیاگیا ہے ملاقات میں چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، سیکرٹری معدنیات صالح بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل بھی موجود تھے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیندک منصوبے کے حوالے سے حکومت بلوچستان کا موقف انتہائی جاندار طریقے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں کے اختیارات صوبوں کو حاصل ہوگئے ہیں لہذا سیندک منصوبے کا اختیار بھی حکومت بلوچستان کو ملنا چاہئے ۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے وزیراعلیٰ کے موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی سیندک منصوبے کو بلوچستان کے حوالے کرنے سے مکمل طور پر متفق ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس امر کی حتمی منظوری وزیراعظم اور وفاقی کابینہ دے گی اور وہ سیندک منصوبے کو بلوچستان کے حوالے کرنے کی بھرپور حمایت کریں گے۔ ملاقات میں طے پایا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی صدارت میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو چینی کمپنی ایم سی سی سے سیندک منصوبے کی لیز میں توسیع سے متعلق حکومت بلوچستان کی شرائط پر بات چیت کرے گی بصورت دیگر حکومت بلوچستان سیندک منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں بااختیار ہوگی اور اسے صاف و شفاف طریقے سے بین الاقوامی بڈنگ کے ذریعے سب سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کے حوالے کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ سے سفارش کی جائے گی کہ خیر سگالی کے طور پر سیندک منصوبے میں بھاری مشینری کی صورت میں وفاقی حکومت کی جانب سے کی گئی 29 ارب روپے کی سرمایہ کاری حکومت بلوچستان کے نام کردی جائے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیندک منصوبے پر بلوچستان کے موقف کی تائید و حمایت اور خیر سگالی کے جذبات کے اظہار پر وفاقی وزیر پیٹرولیم کا شکریہ ادا کیا۔