|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: بلوچستان میگا کرپشن اسکینڈل میں ملوث سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور ٹھیکیدار سہیل مجید کو نیب کے بعد ایف بی آر کی گرفت میں آگئے۔ تمام اثاثہ جات ظاہر کرنے کیلئے نوٹسز جاری کردیئے۔ ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ نو جنوری تک انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔تفصیل کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا عملہ ریجنل ٹیکس آفیسر اور ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریویونیو یونٹ تھری طلحہ مسعود کی سربراہی میں سول اسپتال کوئٹہ کے جیل وارڈ پہنچا اور بلوچستان میگا کرپشن کیس میں گرفتارملزمان سابق صوبائی سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور ٹھیکیدار سہیل مجید کو نوٹس جاری کردیئے۔ نوٹس کے مطابق دونوں افراد نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2011کی شق 114 کی ذیلی شق 1 کے تحت 2015ء اور 2016ء کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائے۔ نوٹس میں مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید کو کہا گیا ہے کہ وہ نو جنوری تک اپنے اثاثہ جات کی تفصیل جمع کرائے۔ مقررہ وقت تک تفصیل جمع نہ کونے کی صورت میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 121، 182 اور191 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ایف بی آر کے آفیسر طلحہ مسعود کا کہنا تھا کہ ملزمان کی جانب سے نیب کو پلی بارگین کی درخواست کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ ان کے پاس جائیداد اور اثاثے تھے جن کی تفصیل جمع نہیں کرائی گئی۔ اب ایف بی آر اپنے طور پر ٹیکسز کی ادائیگی سے متعلق تحقیقات کرے گا۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ میگا اسیکنڈل کے مرکزی ملزم سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اب تک نہیں کیا۔ ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ نو جنوری تک تفصیلات فراہم نہ کیں تو ملزمان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔