|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر 5032کومبنگ آپریشن کیے گئے جن میں کا لعدم تنظیموں کے اہم کمانڈروں سمیت 555 دہشت گرد ہلا ک76زخمی جبکہ 17083گرفتار ہوئے دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ و بارود بھی برآمد کیا گیا۔ تفصیلا ت کے مطابق 16دسمبر 2014کو پشاور میں سانحہ آرمی پبلک اسکو ل کے بعد ملک بھر میں کومبنگ آپریشنز کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ بلوچستان میں کومبنگ آپریشنز میں تیزی کا اعلان رواں سال 8اگست کو سول ہسپتا ل میں وکلاء پر ہونے والے خود کش دھما کے کے بعد آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر حکم دینے کے بعد کیا گیا ،قا بل اعتماد سرکاری اعداد و شما ر کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران بلوچستا ن میں کل 5032کومبنگ آپریشن کیے گئے جن میں سے پو لیس نے 1313،لیویز نے 318،اور حساس اداروں نے 3401آپریشن کیے ،ان آپریشنز کے دوران کل کا لعدم تنظیموں کے اہم کمانڈروں سمیت 17083افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں پولیس نے6493،لیویز نے 524،جبکہ حساس اداروں نے 10066افراد کو گرفتار کیا ،دو سالوں کے دوران کو مبنگ آپریشنز میں فورسز کے ساتھ مقابلوں میں 555شرپسند ہلا ک بھی ہوئے جن میں 53پولیس ،15لیویز اور 487حساس اداروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد مارے گئے جبکہ ان مقابلوں میں 76شرپسند جن میں 15پولیس ،1لیویز ،اور 60حساس اداروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے ،گزشتہ دو سالوں میں فورسز نے 4453مختلف اقسام کے چھوٹے بڑے ہتھیار بھی برآمد کیے جن میں 1782پولیس،626لیویز اور 2045حساس اداروں کی جانب سے برآمد کیے گئے ،کومبنگ آپریشنز کے دوران 444737 مختلف اقسام کو گو لہ بارود، گولیاں و غیرہ بھی برآمد ہوا جس میں 196410پولیس ،6222لیویز اور 242105حساس اداروں نے برآمد کر کے تحویل میں لیا ۔ 5دسمبر 2016کو فورسز کے ایک اہم کومبنگ آپریشن میں سانحہ آٹھ اگست کا ما سٹر مائنڈ جہا نگیر بادینی اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ پشین کے علاقے حرمزئی میں ہلا ک ہوا تھا۔