|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے جس کا حق حل سیاسی طور پر نکالا جاناچاہئے ،طاقت کا استعمال مسئلے کے حل کی بجائے صورت حال کو مزید خراب کررہاہے ،سال 2016کے دوران 667افراد کے لاپتہ ہونے اور 116کی لاشیں ملنے کی اطلاعات لواحقین ،انسانی حقوق کی تنظیموں ،میڈیا اور دیگر ذرائع سے ہمیں ملی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔نصراللہ بلوچ کاکہناتھاکہ سال 2016ء میں بھی طاقت کے استعمال کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی بلکہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کا مسئلہ بھی ختم نہیں ہوسکا ،انہوں نے الزام عائد کیاکہ 28نومبر کو بولان سے سمالانی قبائل کے بچوں اور خواتین کو لاپتہ کرنے کی ہمیشہ شکایت موصول ہوئی ہے ان کاکہناتھاکہ طاقت کے استعمال کے باعث لوگوں کی نقل مکانی کرنے کی وجہ سے تعلیم ،صحت اور روزگار متاثر ہورہی ہے ،ان کاکہناتھاکہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت کیسوں کی صرف دو دفعہ سماعت ہوسکی ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کے دوران 70افراد بازیاب ہوئے جن میں سے 10کو مہینوں اور سالوں کے بعد چھوڑ دیاگیا جبکہ 60افراد ایسے تھے جنہیں گرفتاری کے چند بعد ہی آزاد کردیاگیاہے ان کاکہناتھاکہ حکومتی سطح پر سال 2010کو لاپتہ افراد کیلئے تشکیل دئیے گئے کمیشن کی کارکردگی 2016میں بھی مایوس کن رہی کیونکہ کمیشن میں زیر سماعت 40کے لگ بگ لاپتہ افراد کے کیسز خارج کئے گئے حالانکہ ان کیسز کو عدالت عظمیٰ کے احکامات پردرج کیاگیاتھا انہوں نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے اورکہاکہ اس کی اراکین کی وجہ سے صرف اخباری بیانات کا ہی سہارا لیاجارہاہے ،ان پر بے مقصد وسائل ضائع ہورہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اورمیڈیا کی کارکردگی بھی حوصلہ افزا نہیں بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے جس سے سیاسی طریقے سے حل ہوناچاہئے طاقت کااستعمال حالات کو مزید خرابی کی جانب لے جارہاہے ،انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد اور دیگر کا نوٹس لیں اگر لاپتہ افراد کے خلاف کیسز ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے اگر وہ قصوروار ہے توانہیں سزائیں دی جائے اور اگر بے قصور ہے توانہیں چھوڑ دیاجائے ،انہوں نے کہاکہ حکومتی ترجمان کی جانب سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز پر مختلف الزامات لگانا درست نہیں ہماری تنظیم کے کسی قسم کے سیاسی مقاصد نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ تنظیم کیساتھ 37سو سے زائد لاپتہ افراد کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے ۔