|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری کردہ بیان میں گزشتہ روز سیکورٹی ادارے کے اہلکار اور ساتھیوں کی جانب سے شہید وکیل رہنماء داؤد خان کاسی کے بھائی اور ڈاکٹر عبدالمالک کاسی کے فرزند کی اغواء ، قاتلانہ حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ بھر کے پشتون و بلوچ اقوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے تحفظ پر مامور ہی کے ہاتھوں یرغمال زندگی گزارنے پر مجبو رہیں ، صوبائی حکومت اس طر ح کے تمام واقعات کی ذمہ دار ہے کیونکہ ہر تین مہینے بعد صوبائی حکومت اس ادارے کو پولیس کی اختیارات دینے میں توسیع کرتے ہیں صوبے کے معدنیات پر ناجائز ٹیکس وصولی کے بعد اغواء جیسے مکروہ عملیات میں اس کا ملوث پانا صوبائی حکومت کی عوام دشمن اقدام ہے ، قومی شاہراہوں پرناکے لگا کر عزت دار شریف النفس شہریو ں کی تذلیل و تضحیک ، معدنی وسائل پر تحفظ کے نام پر ناجائز ٹیکس سے صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی شروع دن سے مطالبہ کررہی تھی کہ صوبے میں امن وامان کی ذمہ دار سول انتظامیہ ہے حکومت نے سول انتظامیہ کے اختیارات سیکورٹی ادارے کے سپرد کرکے غریب صوبے کے عوام پر خرچ ہونے والی رقم ان کے اخراجات کے لئے مختص کردیا جوکہ عوام دشمن اقدام ہے ۔ بیان میں کہا گیاکہ عوامی نیشنل پارٹی ایک ذمہ دار قومی جمہوری سیاسی جماعت کی حیثیت سے ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر ان جیسے عملیات کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور اسے صوبائی حکومت کی مکمل ناکامی ،مجرمانہ غفلت ، غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے تعبیرکرتی ہے اور اعلیٰ عدلیہ سے اس رقم کی ناروا عملیات کا ازخود نوٹس لینے کی مطالبہ کرتی ہے ۔