|

وقتِ اشاعت :  

لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں لیکن صحت عامہ کی صورت حال اس قدر مخدوش ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریض سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث زندگی کی بازی ہار رہے ہیں اور ایسا ہی ایک واقعہ لاہور کے جناح اسپتال میں بھی پیش آیا ہے کہ جہاں قصور سے لائی گئی مریضہ بنیادی سہولیات نہ ملنے پر جاں بحق ہوگئی۔
پیر کی علیٰ الصبح قصور کی رہائشی زہرہ بی بی کو اس کے بچے میلوں دور لاہور کے جناح اسپتال میں صرف اس لیے لائے کہ شاید ان کی والدہ کو بہتر علاج کی سہولیات مل جائے لیکن جہاں حکمران خود بیرون ملک علاج کراتے ہوں وہاں ملک کے سرکاری اسپتالوں میں بھلا غریبوں کو کون پوچھے گا اور نتیجہ وہی نکلا جو زہرہ بی بی جیسے ہزاروں مریضوں کو سرکاری اسپاتالوں میں لانے سے نکلتے ہیں یعنی ورثا لائے تو مریض کو اپنے پیروں پر لیکن اسے چار کندھوں پر لے جایا گیا۔
زہرہ بی بی کو جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں ایک بیڈ بھی نہ ملا اور تو اور ڈاکٹروں نے اس کے میڈیکل ریکارڈ کا بھی جائزہ نہ لیا کہ وہ بدنصیب دل کی مریضہ ہے، زہرہ کو ایمرجنسی کے ٹھنڈے فرش پر ہی لٹاکر ڈرپ لگادی گئی، کچھ ڈرپ کا اثر تھا اور کچھ ٹھنڈے فرش نے کام دکھایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسے شدید بخار نے آگھیرا، اس پر بھی وہاں موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو کچھ خیال نہ آیا، انہوں نے اسی وقت پھرتی دکھائی جب زہرہ کے ساتھ آنے والوں نے دھاڑیں مار کر رونا شروع کردیا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور زہرہ بی بی ابدی نیند جاسوئی۔
زہرہ بی بی کی ہلاکت پر اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اسپتال کا پورا عملہ مریضوں کے علاج میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا لیکن اسپتال میں آنے والے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ جب کہ سہولیات کم ہیں اور یہ واقعہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے روایتی انداز میں واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔