|

وقتِ اشاعت :  

لندن : بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں ریاست کی بلوچستان میں موجود حکومتی ترجمان کی گمشدہ بلوچوں اور انکی مسخ شدہ لاشوں پر بیان کو غیر مستند اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی طرف سے گذشتہ ایک دہائی میں بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ۔ گزشتہ 68 سالوں سے بلوچستان میں ہزاروں بلوچوں کو جہازوں کے ذریعے بمباری اورآپریشنوں میں شہید کیا گیا جس میں خواتین ، بچے، بزرگ اور جوان شامل ہیں ۔ 2009 سے فورسز نے بلوچستان میں بلوچوں کو غائب کر کے ان کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔ بلوچستان میں آئے روز بلوچ نوجوانوں اور برزگوں کو غائب کر کے ان پرانسانیت سوز مظالم تشدد کر کے ان کی مسخ لاشیں پھینکتے ہیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوان اور بزرگ ا ب بھی زندانوں میں مظالم سہ رہے ہیں ۔بلوچ رہنما نے کہا کہ ریاست خود کئی مرتبہ ایک ہزار مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا اعتراف کرچکاہے جبکہ بلوچوں کی مسخ لاشوں کی تعداد جو اب تک بلوچستان کے طول و عرض میں پھینکے گئے کئی گنا زیادہ ہے بلوچستان کے انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق لگ بھگ 5000بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ جن میں بہت سی لاشیں ناقابل شناخت تھیں ۔ اس کے علاوہ خضدار میں سیکنڑوں کی تعداد میں بلوچ جدوجہد سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کو سرعام بازاروں میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا گیا اور و ہاں سے دو اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں جن میں سے صرف تین افراد ، محمد نصیر ، محمدعمر اور قادر بخش کی شناخت ہوسکی تھی۔ مقامی لوگوں کی طرف سے اجتماعی قبروں کی دریافت کے چند گھنٹوں بعد فورسز نے علاقے کو سیل کرکے انسانیت سوز جرائم کے تمام ثبوت مٹا د یئے تھیحیر بیار مری نے کہا کہ مشرف دور میں وزیر داخلہ آفتاب احمدشیرپاو نے 2005 میں میڈیا کے سامنے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ چار ہزار کے قریب بلوچ خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ رحمان ملک نے 2009 بلوچوں کو ڈنڈے کے استعمال کی دھمکی دی اورجون 2009 میں بلوچ لیڈر غلام محمد بلوچ کو دو ساتھیوں لالہ منیر اور شیرمحمد سمیت تربت سے اغوا کر کے بعد میں ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی گئیں۔ اس کے بعد بلوچستان کے طول و عرض میں بلوچ نوجوانوں کی لاشیں پھینکنا شروع کیا جو کہ ابھی تک جاری ہے ۔ 2010 کو اسی پالیسی کے تحت فورسز نے ناصر ڈگارزئی بلوچ کو پنجگور سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا اور جس پر تین دن تک تشدد کرنے کے بعد گولیاں مار کر پھینک دیا گیا جو کہ معجزانہ طور پر نچ گیا اور اس کے بعد انہوں کے داستان مقامی میڈیا کو بتائی لیکن مئی 2011 کو ناصر ڈگارزئی کو پھر سے حراست میں لیکر شہید کردیا گیا۔ اسی طرح ا سٹوڈنٹ لیڈر قمبر چاکر سمیت ہزاروں نوجوانوں کویورنیورسٹی جاتے ہوئے یا گھروں سے اغوا کر کے ان کی لاشیں سیکنڑوں میل دور کراچی، حب کوئٹہ، کیچ، تربت اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں اور بیابانوں میں پھینکی گئی ۔ جن میں ٹیکدار یونس اور جلیل ریکی سمیت دوسرے بلوچوں کو ہیلی کاپٹر سے پھینکا گیا۔ حیربیار مری نے کہا کہ ریاست جھوٹ پر بنا ہے اور جھوٹ اور دہری معیار پر قائم ہے اسی لیے اس کے حکمران جھوٹ کا سہارہ لیکر دنیا کو حقائق سے گمراہ کر رے ہیں۔ 2011 میں رحمان ملک نے مسخ لاشوں کا اعتراف کیا اور کہا تھا کہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کو پھینکے میں انڈیا ملوث ہے اور انڈین ایجنسیاں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بلوچوں کو اغوا، ان پر تشدد کر کے ان کی لاشیں پھینک رہے ہیں۔ ایسے دعووں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاستدان سفید جھوٹ بول کراقوام متحدہ اور انسانی اداروں کے منہ پر بھی تمانچے مار رہے ہیں۔ریاست دہشت گردی اور سیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے ایک طرف کشمیری روہنگیا اور فلسطینی مسلمانوں پر مظالم کا واویلا کرتا ہے تو دوسری جانب خود ہی مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کرتا ہے جس کی مثال 1971 میں بنگلہ دیش میں بنگالیوں کی قتل عام او ر بلوچستان پر قبضہ سے لے کر اب تک بلوچوں کی نسل کشی ہے نصرف یہ بلکہ پاکستان 1980 سے لے آج تک افغانستان میں بھی افغانوں کے خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور دہشت گردی کے نام پر دنیا کو بلیک میل کرکے ایک طرف خود مذہبی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کو ٹریننگ دیے کر انہیں ہمسایہ ممالک اور یورپ برآمد کرتا ہے تو دوسری طرف یورپ و امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف فنڈز لے کر دہشت گردوں کو مضبوط کرتا رہاہے جبکہ اسی فنڈ کا کچھ حصہ بلوچستان میں اپنی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بلوچ قوم کے خلاف استعمال کررہا ہے ۔