|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ +خضدار: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا ،ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے پورے خطے کو اور اس سے آگے کے علاقوں کوباہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے،ہمارے دشمن طویل عرصہ سے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور حالات خراب رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، الحمداللہ ہم نے انکے عزائم کو شکست دی ہے اور آج کا بلوچستان زیادہ مضبوط ، مربوط اور بحالی کے راستے پر گامزن ہے،گوادر پورٹ کی ترقی 870 کلو میٹر روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سی پیک کو عملی شکل دینا ہمارے قومی عزم کا ثبوت ہے۔ جمعرات کو خضدار میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے ایک روزہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی معیشت کے حوالے سے ممکنہ کردار کی وجہ سے بلوچستان پر ہر کسی کی توجہ ہے ، ہمارے دشمن طویل عرصہ سے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور حالات خراب رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، الحمداللہ ہم نے انکے عزائم کو شکست دی ہے اور آج کا بلوچستان زیادہ مضبوط ، مربوط اور بحالی کے راستے پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کی ترقی 870 کلو میٹر روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سی پیک کو عملی شکل دینا ہمارے قومی عزم کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور پاک فوج صوبے میں امن اور استحکام یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی آدھا کام ہوا ہے ۔ ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے پورے خطے کو اور اس سے آگے کے علاقوں کوباہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پائیدار کوششوں کے نتیجہ میں آج بلوچستان کے لگ بھگ 20 ہزار سپوت فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن میں 603 آفیسرز شامل ہیں جبکہ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں اس وقت 232 کیڈٹس بھی زیر تربیت ہیں ماضی میں بلوچستان میں فوج کی نمائندگی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد صرف فوج میں بلوچستان کے نوجوانوں کی ہے پاکستان ایئر فورس نیوی اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں بھی بلوچوں کی نمائندگی موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن زیادہ دور نہیں کہ جب آپ میں سے ہی کوئی میری جگہ پر کھڑا ہو گا اور اس عظیم صوبے کے نوجوانوں سے بات کر رہا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ بلوچستان میں آرمی اور ایف سی کے تحت قائم سکولوں کالجوں کیڈٹ اور ملٹری کالجوں میں 25 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ سڑک کے ذریعے صرف علاقے ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے بلکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے ذریعے یہ لوگوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ۔انہوں نے اس موقع پر بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی( نسٹ )کے بلوچستان میں کیمپس اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز (نمل) کے چینی زبان کے سینٹر کے قیام کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور پاکستان کی ترقی بلوچستان کے استحکام اور ترقی میں پنہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا نیٹ ورک بلوچستان کو ہماری قومی ترقی کی کوششوں کے قلب میں لے آئیگا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہر قیمت پر امن قائم کیا جائے گا اور وعدہ ہے صوبے کے ہر علاقے کو ترقی دیں گے۔ خوشی ہے کہ بلوچستان کے نوجوان امن، ترقی اور خوشحال کی جانب گامزن ہیں۔ پاک فوج صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ بلوچستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے جو صحیح سمت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آرمی چیف نے کہا اقتصادی راہداری منصوبہ بلوچستان سمیت ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تقریب میں وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری، وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار پروفیسر بریگیڈیر محمد امین ، کمانڈرجنوبی کمانڈلیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض سمیت اعلیٰ حکام اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات بھی شریک تھے۔دریں اثناء آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی ہم منصب کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے من گھڑت دعوے اور آئندہ امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا منہ توڑ جواب دیں گی۔جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کرنے اور ایسا دہرانے کے دعوے کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا منہ توڑ جواب دیں گی۔مسلح افواج بھارتی جارحیت کا جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔بھارتی آرمی چیف یہ دعویٰ کرکے خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی فوج کے نئے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈین افواج نے پاکستان کے علاقے میں سرجیکل سٹرائیک کی تھی جس کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت کیا گیا تھا اور اس کی مکمل طور پر مانیٹرنگ بھی کی گئی تھی ۔ اگر دوبارہ ضرورت پڑی تو وہ پھر سرجیکل سٹرائیک کریں گے۔