|

وقتِ اشاعت :  

فرید آباد : سابق وزیر اعظم پاکستان و ممبر قومی اسمبلی میر ظفراللہ کا جمالی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ختم کرنے کی بڑی وجوہات ڈاکٹر قدیر کو حوالے نہ کرنے اور نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف آپریشن کے خلاف اجازت نہ دینا ہے بینظیر بھٹو صاحبہ کے دور میں رمزی مارا گیا اور نواز شریف کے دور میں ایمل کاسی کو مارا گیا اگر میں ڈکٹر قدیر کو حوالے کردیتا تو میں گھر واپس نہیں آتا اور شرم سے مر جاتا میں تین اشخاص کا بہت ہی ممنون ہوں جنھوں نے سیاست میں کردار ادا کیا میر جعفر جمالی جو مجھے سیاست میں لا ئے اگر وہ نہ لاتے تو میں سیاست میں نہ ہو تا دوسرا ذولفقار علی بھٹو جن کے ساتھ میں نے کام کیا اور نواب اکبر خان بگٹی جو میر ا بزرگ ہے جب بگٹی صاحب کامسئلہ آیا میں نے کہا کہ میں صدر صاحب سے کہا کہ میں دستخظ نہیں کروں گا اور کہا کہ نیا وزیراعظم ڈ ھونڈیں اور میں گھر جارہا ہوں میں اپنے بزرگ کو قتل کروں یہ ہو نہیں سکتا ۔ وہ پریس کلب صحبت پور کے تقریب حلف برداری کے موقع پر خطاب کررہے تھے ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کا معاملہ اسمبلی میں اٹھاؤں گا نصیر آباد ڈویژن کے صوبائی اسمبلی کے ممبران کو چاہیے کہ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ذریعے سی پیک کے معاملے کو وزیر اعظم کے پاس اٹھائیں ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل بھی میں نے سبی میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ بلوچستان کو صرف روڈ دینا ترقی نہیں جب پاکستان نہیں تھا تو بلوچستان تھا اور آج پاکستان ہے تو بھی بلوچستان ہے بلوچستان کو ان کے حقوق ملنے چاہیں ہمیں ہمارا حق دو بلوچوں کوان حق دو کیونکہ بلوچستان لیٹ سے صوبہ بنا اوربلوچستان کو ان کے حقوق ملنے چاہیں ۔