|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری میں بلوچستان کی شاہراہوں اور صنعتی ترقی کے 12اہم منصوبوں کی شمولیت سے ترقی کا عمل تیز ہوگا روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ڈاکٹر حامد خان اچکزئی سے بات چیت کرتے ہوئے کیاجنہوں نے جے سی سی کے اجلاس میں بلوچستان کے منصوبوں کو اقتصادی راہداری کا حصہ بنانے کی منظوری پر وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس حوالے سے وزیراعلیٰ کی کامیاب کوششوں کی تعریف کی۔ وزیراعلیٰ کے پولیٹیکل ایڈوائزر جمال شاہ کاکڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران مختلف چینی کمپنیوں کے حکام سے ملاقات کرکے انہیں بلوچستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری ا ور صنعتیں قائم کرنے پر راغب کیا ہے ۔ انہوں نے باؤ سٹیل کمپنی کے حکام سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے گواد رمیں سٹیل مل لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ اس صنعت میں بلوچستان کے 10ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ سے ژوب براستہ بوستان قلعہ سیف اللہ ریلوے لائن کے منصوبے کیلئے بھی کوششیں کی جائیں گی ۔ جمال شاہ کاکڑ نے وزیراعلیٰ کے ترقیاتی وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ریلوے لائن کے منصوبے سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اس کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا کوئٹہ(خ ن) وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے سپینی روڈ کوئٹہ میں گاڑی پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے فائرنگ کے واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو شہر میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور واقعہ میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ دہشت گرد اور شر پسند عناصر اس قسم کے واقعات کے ذریعے صوبے بالخصوص کوئٹہ کے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر کے امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر تمام ادارے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششوں میں ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچائیں۔ وزیراعلیٰ نے واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت بھی کی ہے علاوہ ازیں کوئٹہ ( این این آئی ) وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تمام اراکین اسمبلی چاہئے ان کا تعلق اپوزیشن سے ہوں یا اتحادی جماعتوں سے ہوں ان کو ساتھ لیکر چل رہا ہوں ہمیشہ پارلیمانی روایت کو برقرار رکھا ہے اور ایک دوسرے کا احترام کیا ہے صوبے میں تین سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے ۔انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں کہی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ میر خالد لانگو کے بارے میں سیکرٹری صحت جیسی رپورٹ دینگے اس پر کارروائی کی جائیگی اگر کسی اراکان اسمبلی کو شکایت ہے تو وہ مجھ سے ملکر اپنی شکایت کے بارے میں بتا سکتا ہے سردار اسلم بزنجو رحیم زیارت وال بھائی آپس میں روزانہ ملتے ہیں آج جو کچھ اسمبلی میں ہوا ہے اچھا نہیں ہوا ہے اور میں اسپیکرصاحبہ سے کہتا ہوں کہ وہ اسمبلی کارروائی سے ایسے الفاظ کو ہدف قرار دے دے ۔انہوں نے کہاکہ میں 1988سے اسمبلی میں آرہا ہوں ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہمارا صوبہ کرپشن سے پاک ہوجائے جس کے لئے ہم جد وجہد کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری پارلیمانی روایت رہی ہے کہ وہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا ہے اور عزت کی ہے او رانشاء اللہ آئندہ بھی اسی طرح ایک دوسرے کے احترام کرتے رہیں گے ۔ذاتی نوعیت کے الزامات لگانے سے گریز کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے پشتونخواملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ ن مسلم لیگ ق نے بھی بڑی کوششیں کی ہے کافی حد تک ہم اس میں کامیاب ہور ہے ہیں اور ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کہ صوبے میں جلد ازجلد امن وامان برقرار رہیں۔