انتظامیہ کے اختیارات، عوامی مسائل

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر)فرخ عتیق نے میڈیاکے نمائندوں سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ شہری مسائل کی تمام تر ذمہ داری ہماری نہیں بلکہ متعلقہ ادارے بھی اس کے پابند ہیں البتہ ہم عوام سے مکمل تعاون کرتے ہوئے انہیں مشاورت کے ساتھ ہر طرح کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔



بلوچستان میں نہری پانی کی قلت

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان سے امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے شاید کوئی ایسا شعبہ ہو جہاں پر بلوچستان سے امتیازی سلوک نہ برتا جارہا ہو ۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے نصف پاکستان ہے اگر سمندری حدود کو شامل کریں تو یہ نصف سے بھی زیادہ ہے۔



اداروں کے درمیان مکالمہ

| وقتِ اشاعت :  


سینٹ کے چیئر مین میاں رضا ربانی نے ریاستی اداروں کے درمیان مکالمے کامطالبہ کیا تھا یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں شہید وکلاء کی برسی کے موقع پر کہی ۔ اس پر متعلقہ اداروں نے چپ رہنا بہتر سمجھا اور اس پر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔



سندھ سے نیب کی رخصتی

| وقتِ اشاعت :  


سندھ کی منتخب حکومت نے بالآخر نیب کو صوبہ بدر کرہی دیا۔ توقع کے مطابق سندھ کے گورنر نے دوسری بار اس قانون پر دستخط کرنے سے انکار کیا جو سندھ کی پارلیمان نے دوسری بار منظور کی تھی ۔اگر گورنر سندھ کو حکومت سندھ اور سندھ کے عوام کی منتخب پارلیمان سے اختلاف ہے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور کسی نئے اور غیر جانبدار شخص کو گورنر بنایا جائے ۔



بابا بزنجو کی یاد میں

| وقتِ اشاعت :  


میر غوث بزنجو کو وفات پائے تقریباً بیس سال ہونے کو ہیں مگر ان کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں سیاست پر ان کی چھاپ آج بھی واضح ہے ۔ ریاست قلات کی سیاست کے بعد وہ بلوچستان میں جدید سیاست کے بانی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل وہ سامراج دشمن تحریک میں پیش پیش تھے وہ واحد شخص تھے جس نے غیر منقسم ہندوستان کی جیلوں میں سزائیں کاٹیں ۔



سیاست اور غیر یقینی کی صورت حال

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم کے عہدے سے نواز شریف کی بر طرفی کے بعد ملک میں ایک غیر یقینی کی صورت حال بنتی نظر آرہی ہے ۔ سیکورٹی اداروں کے مشورہ کے بعد بھی نواز شریف بضد ہیں کہ وہ جی ٹی روڈ سے ہی لاہور واپس جائیں گے حالانکہ وہ جہاز کی سواری کے دلدادہ تھے اور آئے دن جہاز میں سفر کرتے تھے ۔ آج اچانک ان کو شوق ہوا کہ وہ جی ٹی روڈ سے ہی لاہور جائیں گے۔



عوام کو سزا نہ دیں

| وقتِ اشاعت :  


اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ معمولی بات پر سیکورٹی اہلکار پریشان ہوتے ہیں اور لوگوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دیتے ہیں اور عوام الناس کو زیادہ پریشان کریتے ہیں۔ کل سریاب روڈ کو گھنٹوں بند کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا ،نہ جانے کیوں کسی اہلکاکر کو یہ خیال آیا کہ لاکھوں لوگوں کو پریشان کیاجائے ۔



بلوچستان کے شہداء

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ سال آج ہی کے دن وکلاء برادری کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں مجموعی طورپر ستر سے زیادہ لوگ شہید اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ خودکش حملہ ایک منصوبہ کے تحت سول اسپتال کے اندر کیا گیا۔