بلوچستان میں پانی کی نایابی

| وقتِ اشاعت :  


پانی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے زندگی کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں یعنی پانی سے تو زندگی کا یہ سفر رواں دواں ہے۔ اگر پانی ختم تو دنیا اور دنیا کی رونقیں بھی ختم۔پانی کی کا مسئلہ تو ہمیشہ سے بلوچستان میں رہا ہے



چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بلوچستان

| وقتِ اشاعت :  


بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں حالیہ اضافہ کے بعد بھی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے ذریعے ہی باہمی تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے، یہ حکومت اور اسٹبلیشمنٹ کی اولین خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے



بلوچستان میں جہاز سازی کی صنعت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستانی بلوچستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل ہے جبکہ ایرانی بلوچستان کا ساحل دو ہزار کلو میٹر ہے جو ساحل مکران کہلاتا ہے اور مجموعی طورپر یہ تین ہزارکلو میٹر طویل ہے ۔ ان دونوں ممالک میں اس ساحلی پٹی پر 99فیصد آبادی بلوچوں کی ہے ۔ بلکہ گلف آف اومان کے آدھے حصے پر بھی بلوچ ہی آباد ہیں ۔



آؤ ملکر نوجوان تنویر کو دوبارہ اسکے پیروں پر کھڑا کریں

| وقتِ اشاعت :  


ماضی میں صوبے سے سرز دہونیوالی زیادتیوں کا ازالہ کرینگے، یہ وہ اعلانات اور دعوے ہیں جو اقتدار نشین پسماندگی کی تصویر بننے اہل بلوچستان سے اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد کرتے ہیں، مگر ہوتا کچھ بھی نہیں، اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کی حوس انہیں وہ سب کرنے پر مجبور کر دیتی ہے،



کوئٹہ کو شٹل ٹرین کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


روز اول سے ہی کوئٹہ کے شہریوں کو ماس ٹرانزٹ کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اور لوگوں کو دہائیوں پرانی بسوں اور رکشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا کوئٹہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہاں پر ریل کا بہتر نظام موجود ہے



لیاری نادراآفیسرکی شہنشاہت،عوام کے ساتھ دوہرے معیار کا رویہ برقرار

| وقتِ اشاعت :  


کراچی: لیاری نادراسینٹر میں آفیسر کی شہنشاہت نے عوام کوسخت ذہنی کوفت میں مبتلاکردیا ہے، نادراآفیسر عوام کے ساتھ غیرانسانی رویہ اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی عزت نفس کو مجروع کرتا ہے



پی ٹی سی پر حملہ،حکومت کو سوالات کے جواب دینا ہونگے

| وقتِ اشاعت :  


کراچی: سریاب پولیس ٹریننگ سینٹرسانحہ کے بعد اٹھنے والے سوالات جواب طلب ہیں،ٹر یننگ ختم ہونے کے بعد اہلکاروں کو کیونکرواپس سینٹرطلب کیا گیا،دہشت گردی کی اطلاع کے باوجود سینٹر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیوں نہیں کیے گئے ، سانحہ سول ہسپتال کے بعدبھی شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال ابترکیوں ہے،ایسے متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں یقیناجواب طلب ہیں مگر ذمہ دارانہ طریقے سے جواب کون دے گا،ہر سانحہ کے بعد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دی جاتی ہے اور جب تک رپورٹ سامنے آتی ہے تب تک عوام اس سانحہ کو بھول چکے ہونگے



سول ہسپتال کراچی پرچی مافیاک ے ہاتھوں یرغمال

| وقتِ اشاعت :  


کراچی: کراچی سول ہسپتال کاشمار پاکستان کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہوتا ہے‘ روزانہ 12 ہزار کے قریب مریض چیک اپ کیلئے آتے ہیں‘800ڈاکٹرز اور سینکڑوں عملہ مختلف شعبہ جات میں فرائض سرانجام دیتے ہیں‘ سول ہسپتال کراچی میں غریب افراد اس غرض وامید سے آتے ہیں کہ انہیں مفت علاج فراہم ہوگا اور بہترین سہولیات بھی دی جائے گی مگر ہسپتال کے اندر موجود ملازم وغیرملازم افراد کراچی کے شہریوں سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان سے آنے والے افراد سے ہزاروں روپے بٹورتے ہیں‘ سول ہسپتال میں ٹوٹل پانچ کاؤنٹر اوپی ڈیزکی پرچی کیلئے بنائے گئے ہیں



کے الیکٹرک آفیسران کے شاہانہ اخراجات، کروڑوں روپے کا بوجھ عوام پر

| وقتِ اشاعت :  


کراچی: ہمارے یہاں حکمرانوں نے ہمیشہ اداروں کو پرائیوٹ کرنے کو محض اس لیے جواز بنارکھا ہے کہ سرکاری سطح پر کرپشن اور لاپرواہی برتی جاتی ہے جس سے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں، چندماہ قبل جب پی آئی اے کو پرائیوٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیاتوپی آئی اے کے یونین اور ورکروں کی جانب سے اس کا شدید ردعمل سامنے آیا،