|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین بالاچ قادر کے خلاف مسلسل مقدمات، عدالتی پیچیدگیوں اور غیر ضروری قانونی دباؤ کا استعمال دراصل ایک منظم ہراسانی مہم کا حصہ ہے۔ گوادر میں زیرِ سماعت مقدمے کو اچانک کوئٹہ منتقل کرنے کا اقدام اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ایک سیاسی اور طلبہ رہنما کو غیر معمولی طریقوں سے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بالاچ قادر ایک عرصے سے بلوچستان کے طلبہ اور نوجوانوں کی سیاسی و سماجی آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کے مسائل کو سیاسی و فکری سطح پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے حکومتِ وقت کی جانب سے اس جمہوری کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں مسلسل قانونی مقدمات اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے ذہنی اور سیاسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتہائی تشویشناک عمل سمجھا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک سیاسی کارکن کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات دراصل سیاسی عمل کو محدود کرنے اور طلبہ سیاست کو دبانے کے مترادف ہیں۔ اگر ایک منتخب طلبہ قیادت کو اس طرح کے دباؤ اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس سے نوجوانوں کے اندر سیاسی عمل پر اعتماد کمزور ہوگا اور جمہوری اداروں کے بارے میں بد اعتمادی پیدا ہوگی۔

مرکزی ترجمان نے حکومتِ وقت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے جمہوری معاشرے کا فطری حصہ سمجھے۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات اور مسلسل دباؤ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بالاچ قادر کے خلاف جاری ہراسانی کے سلسلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور انہیں ایک سیاسی کارکن کے طور پر آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا حق دیا جائے۔

بی ایس او کے ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوان سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی نمائندہ آوازوں کو کس طرح دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر دباؤ تو پیدا کر سکتے ہیں مگر سیاسی شعور اور جمہوری مطالبات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بالاچ قادر کے خلاف جاری یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ حکومت کی سیاسی برداشت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *