کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ احتساب بلا تفریق سب کا ہونا چا ہئے کیونکہ آئینی ادارے اور اس میں کام کرنے والے بھی آئین پاکستان کے ماتحت ہے ۔
احتساب کے عمل سے کوئی بھی شخص مبرا نہیں رہ سکتا دوہرا معیار ختم کر کے ایک ہی طرز پر انصاف کیا جائے تاکہ غریب اور امیر میں فرق ختم ہو سکے ’’ آن لائن‘‘ سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے ملک عبدالوالی کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت احتساب کمیشن بنانے جا رہی ہے جس میں ججز اور جرنیلوں کو احتساب کے دائرہ کار میں لانے سے دستبرداری کی جا رہی ہے ۔
یہ درست عمل نہیں کیونکہ یہ ادارے اور اس میں کام کرنے والے بھی آئین پاکستان کے ماتحت ہے جب تک ہم دوہرا معیار ختم کر کے صاف اور شفاف میرٹ کی بنیاد پر احتساب کا عمل شروع نہیں کرینگے ۔
اس وقت تک کرپشن، اقرباء پروری اور لوٹ مار کے عمل کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ کرپشن نے ہمارے ملک اور اداروں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے اس لئے ہمیں آئین پاکستان کی بالادستی کو برقراررکھتے ہوئے ججز، جرنیل سمیت سیاستدانوں، بیورو کریٹ ، صحافیوں حتیٰ کہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو احتساب کے عمل سے گزار نا چا ہئے اس میں کسی کو بھی کوئی چھوٹ نہیں ملنی چا ہئے اگر ایسا کیا گیا تو یہ آئین پاکستان سے منحروف ہونے کے مترادف ہے ۔
اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے پاکستان کے آئین کے تابع ہے اس لئے سب کا کھڑا احتساب بھی ہو نا چا ہئے اس میں کسی کو بھی ریلیف نہیں ملنا چا ہئے جس نے غلط کام کیا ہے
اس کا خمیازہ سزا کی صورت میں بھگتنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک آگے بڑھ سکے اور قوم میں یکجہتی آسکے اور لو گوں میں پائے جانیوالے اس تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ غریب سمیت امیروں کا بھی احتساب ہو گا۔