|

وقتِ اشاعت :   February 3 – 2016

کراچی: اس بات پر دو رائے نہیں ہوسکتی کہ پی آئی اے نے پہلے بنگال کو پاکستان کے ساتھ یک جا رکھا اور بعد میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو ہوائی سروس سے ایک دوسرے کے ساتھ ملادیا۔ گزشتہ دھائی تک پی آئی اے کی پروازیں، جیونی، گوادر، اورماڑہ، تربت، پنجگور، خاران، سبی، جیکب آباد، ژوب، خضدار، زاہدان، مشہد، شارجہ، مسقط اور اومان سب کو ملاتی تھیں جس دن سے پی آئی اے اور ملک کی یکجہتی کے خلاف شروع ہوئیں ہیں اس دن کے بعد سے ایک کے بعد ایک فضائی سروس بند کردی گئی۔ شاید لوگوں کو یہ پڑھ کر حیرانی ہو کہ کراچی ائیرپورٹ کے بعد تربت کا ائیرپورٹ ملک کا دوسرا بڑا مصروف ترین ائیرپورٹ تھا جہاں پر صرف پی آئی اے کی 150پروازیں فی ہفتہ چلتی تھیں۔ کراچی کے بعد بڑا ائیرپورٹ لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ اور پشاور نہیں تھے۔ بلکہ تربت ائیرپورٹ جہاں پر ہفتہ میں 150پروازیں چلائی جاتی تھیں۔ یہ ایک بڑی قومی سروس تھی جو اسلام آباد کے بابو اور مقتدرہ کو پسند نہیں تھی۔ اس لئے آج صرف کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد روزانہ ایک پرواز اور لاہور اور ملتان کے لئے ہفتہ میں دو یا تین پروازیں چلائی جارہی ہیں باقی تمام پروازیں بند کردی گئیں ہیں وجہ صرف مردم آزاد ہے۔ یہ نفرت ہے کہ عوام الناس کو اتنی سہولیات کیوں فراہم کی جاتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے علاقوں میں کیوں آتے جاتے ہیں۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ پی آئی اے کو نقصان ہورہا ہے۔ اب نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ صرف چند مسافروں کو لندن سے کراچی یا لاہور بڑے جہاز میں لایا جاتا ہے ان چند مسافروں کے لئے کروڑوں روپے کے ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کے بجائے چھوٹا جہاز استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ کروڑوں روپے کے نقصان سے بچاجاسکے یہ سب کچھ جان بوجھ کر پی آئی اے کو نقصان پہنچایا جارہا ہے تاکہ نقصان ہو اور عوام کو بتایا جائے کہ پی آئی اے کو فروخت کرنے کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں۔ پی آئی اے کے بعد بلوچستان ملک کے دوسرے حصوں سے رابطہ میں نہیں رہے گا۔ کیونکہ نجی ائیرلائن عوام کو سہولیات دینے کے لئے نہیں بلکہ منافع کمانے کے لئے ہے۔ چنانچہ بلوچستان کے عوام کے جائز مفادات مسلم لیگ کے معاشی اور مالی مفادات پر قربان۔