|

وقتِ اشاعت :   February 8 – 2016

کوئٹہ: بس اڈہ کی ہزارگنجی کی منتقلی بلوچ عوام کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں، ایک لسانی طبقے کو نوازنے کیلئے پورے بلوچستان بالخصوص بلوچ علاقوں کے عوام کو ذلیل وخوار کیاگیا، ہزار گنجی بس اڈہ میں سہولیات کی عدم دستیابی سے مسافروں سمیت ٹرانسپورٹرز ذلیل وخوار، سوڈیڑھ سو کلو میٹر کی مسافت ڈیڑھ دو سو روپے کے عوض طے کر کے آنیوالے کو ہزارگنجی سے کوئٹہ شہر جانے کیلئے پانچ پانچ سو اضافی دینا پڑرہا ہے، بلوچ سیاسی حلقوں کو ہزار گنجی میں عدم سہولیات اور ایک ہی لسانی طبقے پر کرم نوازیوں کیخلاف آواز بلند کرنی چاہئے، وزیراعلیٰ دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راست اقدامات اٹھائیں ، عوامی حلقوں کامطالبہ ، تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے مضافات میں قائم ہزار گنجی بس اڈہ کو بالا آخر فعال کرتے ہوئے کوئٹہ شہر میں قائم تمام ٹرمینلز کو منتقل کردیاگیا، اور یہ فیصلہ عین سخت سردی کے موسم میں کیا گیا ، جس کے باعث سخت ترین موسم میں ہزار گنجی جیسے علاقے میں کسی بھی قسم کی سفری سہولیات تک میسر نہیں، ستم بالائے ستم صوبائی حکومت نے ہزار گنجی منتقلی کا فیصلہ عوامی مفادات کی بجائے صرف اور صرف ایک لسانی طبقے کی نمائندگی کرنے والی تاجر برادری کے احتجاج پیش نظرکیا، جسے عوام کی تکالیف سے کوئی سروکار نہیں جو صرف اپنی دکانوں اور پلازہ جات کے کرایوں کے اضافے میں زیادہ منہمک دکھائی دیتی ہے ،واضح رہے کہ ہزار گنجی میں بس اڈہ کے قیام کا پس منظر بھی کسی دلچسپی سے کم نہیں، سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ہزار گنجی کے مقام پر کوڑیوں کے دام زمین خرید کر اپنی اہلیہ رضیہ بیگم کے نام پر اس کی الاٹمنٹ کروائی اور بعد ازاں ترقیات ومنصوبہ بندی کے شعبے کو ہزارگنجی میں بس اڈہ کے قیام کیلئے اپنی اہلیہ کے نام الاٹ شدہ زمین سرکارکو بیچ کر راتوں رات ارب پتی بن گئے اور جس کا خمیازہ آج بلوچ علاقوں کے عوام بھگت رہے ہیں، جہاں مستونگ ، نوشکی، سبی، مچھ، قلات ودیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو ہزارگنجی سے کوئٹہ شہر جانے کیلئے مزیددوگنا تین گناکرایہ دینا پڑتا ہے، ہزارگنجی میں حکومتی سہولیات کی فراہمی کا سب سے بڑا ثبوت وہ خستہ حال پل ہے جو گزشتہ سات سالوں سے تعمیر نہیں ہوپا رہا ، اس کے علاوہ مسافروں کیلئے نہ کوئی شیڈ ہے نہ ہی کوئی پانی کا نل دستیاب ہے، مغرب ہوتے ہی جہاں ہو کاعالم ہوتا ہے، بلوچ عوام نے ہزار گنجی منتقلی کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری سے دانش مندی کے مظاہرے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کوئٹہ شہر میں کسی بھی سرکاری اراضی پر بس اڈہ کے قیام کا عوامی فیصلہ کریں ، سریاب روڈ پر ریڈیو پاکستان کا پلاٹ اس مقصد کیلئے بہترین سائٹ ہے جو شہر سے دور بھی نہیں ،لہٰذاوزیراعلیٰ ایک ہی طبقے کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے عوامی مفاد کے پیش نظراقدام اٹھائیں