|

وقتِ اشاعت :   March 11 – 2016

کوئٹہ / اندرون بلوچستان: صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش،نوشکی میں تین بچے اورچمن میں تین افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے ،نصیر آباد میں سکول کا چھت گرنے سے طالبہ زخمی ،کوئٹہ کی سڑکیں سیلاب کا منظر پیش کرنے لگے ،ڈیڈھ ارب روپے کی خطیر رقم سے تعمیر ہونے والی سوریج سسٹم پانی کی ریلے کو برداشت نہیں کر سکا ،اندرون بلوچستان تقریباً بیشتر اضلاع میں بارش کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ،نشیبی علاقے زیر آب آ گئے درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچ گیا، کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ،بعض علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی دن بھر چلتی رہی ،چمن میں پی ٹی سی ایل کا نظام درہم برہم ، پنجپائی میں ریلوے ٹریک بہہ گیا جبکہ نصیر آباد میں بعض علاقوں کا شہر وں سے زمینی رابطے منقطع بلوچستان میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہائی الرٹ جاری ،حکومت کی جانب تمام ضلعی سربراہان کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہنگامی طور پر تیار ہونے کی ہدایت جبکہ کوئٹہ ڈویژن میں سرکاری ملازمین کی چھوٹیاں ختم انہیں حاضر رہنے کی ہدایت ، rainبلوچستان کے شمالی علاقوں اور نصیر آباد میں آج بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے محکمہ موسمیات کوئٹہ سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق کوئٹہ میں تیس ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے بعد سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستوں پر بھی ایک فٹ سے زائد پانی جمع ہوگیا کوئٹہ میں موسلا دھار بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ شہر کے وسطی علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ جناح روڈ، پرنس روڈ، سریاب روڈ، جناح روڈ ،بروری روڈاور دیگر علاقوں میں بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ۔ زرغون روڈ پر بھی ایک فٹ سے زائد پانی جمع رہا جس کے باعث سڑک ندی نالے کا منظر پیش کرتی رہی۔ اسی شاہراہ پر گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس بھی واقع ہے لیکن نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارش نے انتظامیہ کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ سریاب ، بروری روڈ، جائنٹ روڈ، ریلوے کالونی، نواں کلی ، موسیٰ کالونی ، بائی پاس اور ملحقہ علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے کئی کچے مکانات کو نقصان پہنچا کمشنر کوئٹہ ڈویژن قمبر دشتی نے محکمہ موسمیات کی پشینگوئی کے پیش نظر ڈویژن کے افسران اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئٹہ، پشین،نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی کے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران کو مشینری اور ضروری آلات کی موجودگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کو الرٹ اور حاضر رہنے کی ہدایت کی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں تیس ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ سبی میں انیس، دالبندین میں اٹھارہ، بارکھان میں دس، قلات میں آٹھ ،پنجگور میں تین اورژوب میں دو ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ قلات میں 8 ملی میٹر بارش ریکار ڈ کی گئی ہے خضدار سے بیورورپورٹ کے مطابق خضدار شہر تحصیل نال ،تحصیل وڈھ ،مولہ کرخ زہری باغبانہ فیروز وآباد کے علاقوں میں شدید بارش ہوئی بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر اب آ گئے کچے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے پٹی کمشنر خضدار سرمد سلیم اکر م کے مطابق ضلع بھر میں انتظامی افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ ندی نالوں میں رہائش پزیر مکینوں محفوظ مقامات پرمنتقل کریں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں زرعی ماہرین کے مطابق گزشتہ روز کی بارش سے فصلات خصوصا گندم کی فصل پر مثبت اثرات پڑیں گی اور خشک سالی و قحط کی صورتحال پر کسی ممکنہ حد تک کنٹرول کیا جا سکے گا پنجگور سے نامہ نگار کے مطابق پنجگور میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر پنجگور انتظامیہ کی جانب ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ جاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ اور مشینری کو تیار رہنے کے احکامات جاری کردیا گیا ڈیر ہ مراد جمالی سے نامہ نگار کے مطابق نصیرآباد میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی درجنوں جھونپڑیاں کچے مکانات کی چھتیں اڑ گئیں سکول کی چھت گرنے سے ایک طالبہ اور پک اپ الٹنے سے چار افراد شدید زخمی ہوگئے جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے مواصلاتی نظام درہم برہم بجلی کا طویل بریک ڈاؤن تفصیلات کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی وگرد نواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ مواسلادھار بارش ہونے کی وجہ سے چھتر تحصیل تمبو کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے جس کی وجہ سے دیہاتوں سے آنے والی ٹریفک بند ہوگئی گوٹھ واحد بخش کھوسہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول کی چھت کرنے سے طالبہ عائشہ بی بی شدید زخمی ہوگئی زخمی کو طبی امداد دینے کیلئے ہسپتال لایا گیا اور بارش کی وجہ سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور بجلی کے طویل بریک ڈاؤن سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پرا جبکہ موسم خوشگوار ہوگیا سوراب سے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کے روز دن بھر بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے بعد ہی بھری ندی سمیت دیگر ندیوں میں طغیانی آگئی، بارشوں کے ساتھ ہی سوراب اور ملحقہ علاقوں میں بجلی اور گیس غائب ہوگئے جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کاسامنا رہا، ہم بارشوں سے زمینداروں سمیت عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی نوکنڈی سے نامہ نگا ر کے مطابق نوکنڈی اور گردونواح میں گزشتہ رات وقفے وقفے سے بارش کاسلسلہ صبح تک جاری رہا اور آج بھی بعد از دو پہر گرج چمک کیساتھ تیز بارش ہوئی جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تاہم کہیں سے بھی جانی مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوا سنجاوی اور گردنواح میں شدید بارش ندی نالوں میں طغیانی دو روزہ وقفے کے بعد آج صبح سے ہی تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جوکہ تاحال جاری ہیں ۔بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ندی نالوں میں طغیانی کے باعث درجنوں دیہات کا رابطہ شہر سے منقطع ہو گیا ۔ rain 1تمبووسے نامہ نگار کے مطابق ڈیرہ مرادجمالی اوراس کے گردونواح علاقوں میں صبح بارش سے کئی نشیبی علاقے زیرآب گئے کئی منجھوشوری،چھتر،تمبو،سمیت دیگر علاقوں کا شہری علاقوں سے زمین رابطہ منقطع ہوگیا ہے بارش کے سبب کئی کچے علاقوں کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا کچے راستے بند ہونے سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہے گئے ہیں اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ایریگیشن ،ہیلتھ، سمیت دیگر محکموں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر آفس میں فلڈ کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے اور تمام علاقوں کی صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر نصیراحمد ناصرنے ہنگامی بنیادوں پرڈیرہ مرادجمالی سے نوتال قومی شاہراہ پر واقع تیرہ سے زائدمٹی بند پلوں کو کھول دیا گیا تاکہ ممکنہ سیلابی پانی ڈیرہ مرادجمالی شہرکو ہٹ نہ کرسکے ۔چمن سے نامہ نگار کے مطابق گزشتہ شب سرحدی شہر چمن میں ژالہ باری کے باعث شہر و گرد نواح کے علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کے انڈر گراونڈ کیبل اکڑ گئی جس کے باعث شہر کے اکثر علاقوں میں ٹیلی فون، سمارٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ کا سروس منقطع جس کے وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامناہے قلات سے نامہ نگار کے مطابق قلات اور گرد نواح میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے کے ساتھ بارش کا سلسلہ جا ری ہے بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں محکمہ موسمیات قلات کے مطا بق اب تک قلات میں 8 ملی میٹر بارش ریکار ڈ کیا گیا ہیں اور بارش کا یہ سلسلہ اگلے چوبیس گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہیں قلات اور گردنواح میں گزشتہ تین سالوں سے بارشیں نہ نے کی وجہ سے قلات قحط سال کی لپیٹ میں آگیا تھا جس سے زمینداروں اور مال مویشی رکھنے والے لوگوں کو سخت پریشا نی کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا مگر حالیہ بارشوں سے طویل خشک سال کا زورٹوٹ گیا ہیں اور قلات اور گردنواح میں جو قحط سالی پیدا ہو تھا اب موجودہ بارشوں سے کم ہو گی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی خالق آباد سے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کے روز منگچر کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہے تا ہم کسی بھی علاقے سے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی کوئٹہ سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق کوئٹہ کے علاقہ سریاب میں سیلابی ریلے کی وجہ سے کچے مکانات کو کافی نقصان پہنچا ہیں دوسری جانب حکومت بلوچستان نے بارش کے باعث کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہیں جبکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیوکے تمام ڈویژنل سربراہان کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ صورتحال کے حوالے سے الرٹ رہیں دریں اثنا رات گئے تک مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہا محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی شمالی بلوچستان نصیر آباد اور قلات ڈویژن سمیت دیگر اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری رہے گا،دریں اثناء این این آئی کے مطابق پاک افغان سرحدی گاؤں جلال الدین میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق 8افراد زخمی ہو گئے، جبکہ گاؤں باز محمد میں دو بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے ،جبکہ بارش کی وجہ سے 50مکانات اور تعلیمی اداروں سمیت دفاتر کو نقصان پہنچا ۔