|

وقتِ اشاعت :   March 19 – 2016

کوئٹہ: بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز کی جانب سے بلوچ فرزندوں کا اغوا اور آپریشن شدت سے جاری ہے۔ نصیر آباد و سوئی میں کئی گھروں کو جلاکر ایک درجن سے زائد نہتے بلوچوں کو اغوا کیا گیا۔ اغوا شدگان میں شیر خان ولد قادرو، میوا ولد قادرو، یارو بگٹی، جانو بگٹی، بہرام بگٹی، بچل بگٹی، دین محمد بگٹی، بھگیا بگٹی، علی مراد بگٹی شامل ہیں ۔ کیچ کے علاقے تمپ سے عمران بلوچ ولد ولی محمد کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ عمران بلوچ بی ایس او آزاد کے چیئر پرسن کریمہ بلوچ کے کزن ہیں ۔ بلوچ رہنماؤں و کارکنوں کے رشتہ داروں کو اغوا کرناریاست کی جانب سے ’’مارواور پھینکو‘‘ ’’جعلی انکاؤنٹر‘‘ جیسے حربوں کے بعد ایک نیاسلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ کئی علاقوں میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے رشتہ داروں کو اغوا کیا گیا ہے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے والد اور بھائیوں کو اغوا اور گھر جلانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اس سے پہلے بھی سیاسی کارکنوں کے گھروں کو جلایا گیا ہے۔ حال ہی میں آواران میں بی ایس او کے وائس چیئر مین کے والد کے دکان اور گھروں کو جلایا گیا ایسی بزدلانہ حرکات سے ریاست بلوچوں کو اپنی سرزمین کی آزادی کی جدو جہد سے دستبردار نہیں کراسکتی ۔ بلوچ قوم کو ہراسان کرنے کیلئے آپریشن میں وسعت اور تیزی لائی گئی ہے۔ کوئٹہ میں بلوچ آبادیوں کو جاری آپریشن میں آج پھر سات افراد کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی نے پاکستان کی سفاکانہ پالیسیوں میں مزید لائی ہے۔لاپتہ افراد اور آئی ڈی پیز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلوچستان کو ایک جیل خانہ میں تبدیل کرکے میڈیا سمیت کسی ادارے کو آنے کی اجازت نہیں ہے، مگر اس کے باوجود میڈیا و انسانی حقوق کے ادارے اس حقیقت کو بیان کرنے سے کتراکر اپنا فرض نبھانے میں کوتاہی بھرت رہے ہیں۔