وقت وزیر اعلی نے سانحہ کے تحقیقات کے لئے کمشنر قلات اکبر حریفال کے سربراہی میں ایک کیمٹی تشکیل دی جو واقعہ تحقیق کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے گا اور وزیر اعلی بلوچستان نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر کاروائی سخت احکامات دئیے مگر ڈاکٹر مالک بلوچ کا ایک اعلانات اور یقین دہانی ان کے دور اقدار تک مکمل نہیں ہوئے سابقہ وزیر اعلی نے متاثرین کے امدا تو کیا جان بحق افراد کے شناخت کے لئے لاشوں کی شناخت کے ڈی این اے رپوٹ تک پیش نہ کر سکے سابقہ حکومت نے34 لاشیں امانتا تدفین کرکے تو بھلادیا اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ چند دنوں کے لئے بند ہونے کے بعد تیل کی اسمگلنگ اب بھی جاری ہے سانحہ میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی تو دور کی بات دو سال گزرے کے بعد بھی تحقیقاتی رپوٹ پیش منظر عام تک نہیں لایا افسوس کے قوم پرست حکومت نے تو دعوئے کئے مگر دعوون پر عمل کرنے کی اقدامات نہں کئے مگر سانحہ میں متاثر خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے شناخت کے منتظر ہے سابق وزیر اعلی نے تو اپنے وعدہ تو پورے نہیں کئے سانحہ کے متاثرین نے بلوچستان کے نئے وزیر اعلی سے امیدیں وابستہ کی ہے نواب ثنا ء اللہ زہری سانحہ کے متاثرین کی فریاد سن سکے ان کے پیاروں کی شناخت کرو سکے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرسکے گئے ۔
سانحہ گڈانی کو دوسال مکمل، لواحقین اپنے پیاروں کے شناخت کے منتظر،تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آسکی
![]()
وقتِ اشاعت : March 22 – 2016
وقت وزیر اعلی نے سانحہ کے تحقیقات کے لئے کمشنر قلات اکبر حریفال کے سربراہی میں ایک کیمٹی تشکیل دی جو واقعہ تحقیق کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے گا اور وزیر اعلی بلوچستان نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر کاروائی سخت احکامات دئیے مگر ڈاکٹر مالک بلوچ کا ایک اعلانات اور یقین دہانی ان کے دور اقدار تک مکمل نہیں ہوئے سابقہ وزیر اعلی نے متاثرین کے امدا تو کیا جان بحق افراد کے شناخت کے لئے لاشوں کی شناخت کے ڈی این اے رپوٹ تک پیش نہ کر سکے سابقہ حکومت نے34 لاشیں امانتا تدفین کرکے تو بھلادیا اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ چند دنوں کے لئے بند ہونے کے بعد تیل کی اسمگلنگ اب بھی جاری ہے سانحہ میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی تو دور کی بات دو سال گزرے کے بعد بھی تحقیقاتی رپوٹ پیش منظر عام تک نہیں لایا افسوس کے قوم پرست حکومت نے تو دعوئے کئے مگر دعوون پر عمل کرنے کی اقدامات نہں کئے مگر سانحہ میں متاثر خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے شناخت کے منتظر ہے سابق وزیر اعلی نے تو اپنے وعدہ تو پورے نہیں کئے سانحہ کے متاثرین نے بلوچستان کے نئے وزیر اعلی سے امیدیں وابستہ کی ہے نواب ثنا ء اللہ زہری سانحہ کے متاثرین کی فریاد سن سکے ان کے پیاروں کی شناخت کرو سکے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرسکے گئے ۔