کوئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کی مرکزی کال پر آج 27مارچ کو بلوچستان بھر میں یومِ سیاہ اور شٹرڈاؤ ن و پہیہ جام ہڑتال رہا۔ گزشتہ روز تربت و بیشتر علاقوں میں فو رسز نے لاؤڈسپیکرز کے ذریعے ہڑتال کرنے والے تاجروں کی دکانوں کو سیل کرنے کی دھمکیوں کے باوجود آج بلوچستان کے تمام چھوٹے و بڑے شہروں کے کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔ بی این ایف کے ترجمان نے کہا کہ 27مارچ بلوچ تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تمام تر ریاستی دھمکیوں و تاجربرادری کو حراساں کرنے کی کوششوں کے باوجود ہڑتال کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ عوام ریاست کے خلاف متحد ہو چکے ہیں ۔بی این ایف عالمی اداروں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ بلوچستان کا دورہ کرکے بلوچ نسل کشی اور مظالم و اجتماعی قبروں جیسے انسانیت کے خلاف جرائم پر رپورٹ مرتب کرکے نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان میں چائنا و دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی اعتماد بحال کرنے کے لئے میڈیا و دیگر ذرائع سے انتہائی پروپگنڈوں میں مصروف ہے۔لیکن انہیں یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گا کہ بلوچستان میں ریاست سرمایہ کاروں کے لئے کوئی جگہ نہیں،کیوں کہ بلوچ ریاست کی بحالی سے قبل ہونے والی سرمایہ کاری بلوچ عوام کے لئے اجتماعی موت ہے جسے بلوچ عوام کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔علاوہ ازیں گزشتہ روزبلوچ نیشنل فرنٹ کے زیراہتمام لندن ڈاؤننگ سٹریٹ میں بی ایس او آزاد کے اسیر چیئرمین زاہد بلوچ کی اغواء نما گرفتاری و دوسال کا عرصہ گزرنے کے باوجود عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں بی ایس او آزاد اور بی این ایم کارکنان سمیت بلوچ کمیونٹی کے ممبران اور انسانی حقوق کے مقامی کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ چیئرمین زاہد بلوچ سمیت ہزاروں سیاسی کارکنان کی فورسز کے ہاتھوں گمشدگیوں کے خلاف آواز اُٹھا کر ان کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔