|

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2016

اسلام آباد :  سپریم کورٹ نے بلوچستان میں خلاف ضابطہ تقرری کے حوالے سے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کر دی ہے ،بدھ کے روز چیف جٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی ہے ، درخواست ڈاکٹر عزیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی درخواست گزار کی جانب سے افتخار گیلانی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ، جبکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے ،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پبلک سروس کمیشن میں نمایاں نمبر حاصل کرنے والے امیدوار کے بجائے کم نمر حاصل کرنے والے امیدوار کو ڈاکٹر کی پوسٹ پر تعینات کیا گیا جو میرٹ کی خلاف ورزی ہے ، بلوچستان حکومت کی جانب سے 2005میں گریڈ 18کی 3اسسٹنٹ پروفیسر سرجری اور 2رجسٹرار کی پوسٹ کا اشتہار دیا گیا تھا جن میں اسسٹنٹ پروفیسر سرجری کی تین پوسٹیں نصیر آباد مکران ڈویژن میں خاران ، اور ژوب کی تھی اشتہار میں تینوں پوسٹوں کا اوپن میرٹ رکھا گیا تھا ،جس کا پبلک سروس کمیشن کے تحت امتحان ہو ا، اور حکومت کی جانب سے کوٹہ سسٹم کو بنیاد بناتے ہوئے ایاز مندوخیل کو تعینات کر دیا گیا جبکہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں ایاز مندخیل کا نمبر اٹھواں تھا ،جبکہ ڈاکٹر عزیم کا نمبر پانچواں اور ایاز مندوخیل کے امتحانات میں نمبر 61.33تھے جبکہ ڈاکٹر عزیم کے 71.66تھے ، درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ایاز مندوخیل اب فوت ہو چکے ہیں اور انکی نشست خالی ہے اور میرے موکل اس پوسٹ کے اہل بھی ہیں انہیں اس پوسٹ پر تعینات کیا جائے جس پر بلوچستان حکومت کی جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایاز سواتی نے دلائل دیئے اور عدالت سے مزید تیاری کاوقت مانگا جس پر عدالت صوبائی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے ایک ہفتہ کے لیے سماعت ملتوی کر دی اور کہا کہ ایک ہفتہ میں اس معاملے پر میں جواب داخل کرایا جائے ورنہ میرٹ کے تحت تقرری کردی جائے گی ۔