|

وقتِ اشاعت :   April 3 – 2016

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہوکرپارٹی کے خلاف منفی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں پارٹی کے خلاف اقدامات کے خلاف 4اپریل کو صوبے بھرمیں احتجاجی مظاہرے اور 8اپریل کو شٹرڈاون کیا جائے گا۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنما ملک نصیرشاہوانی،ساجد ترین ایڈووکیٹ،اختر حسین لانگو، غلام نبی مری ،ملک مجید کاکڑ،موسیٰ بلوچ ،غلام رسول بلوچ،نذیر بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے زیر اہتمام حب کے تاریخی اور کامیاب جلسے کے بعدحکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں حب میں پارٹی کے جھنڈے اتارے اور کارکنوں کو ہراساں اور رہنماوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے جارہے ہیں حب میں انتہاء پسند اور شدت پسند تنظیموں کے جھنڈے تو لہرا رہے ہیں مگر قومی سیاسی اور جمہوری جدوجہد کرنے والی جماعت بی این پی کے خلاف اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو ایک منفی اقدام ہے ۔انہوں نے کہا کہ سارونہ سے دو دن قبل حکیم ولد منیراحمد ،احمد ولد محمد کی اغواء نما گرفتاری کے بعد انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے صوبائی اداروں کی موجودگی میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیاں بلاجواز ہیں مذکورہ دو افراد کی اغواء نما گرفتاری اور لاشیں پھینکنے کی تحقیقات کرائی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ آج (ہفتہ) کو شاہ نورانی میں ویلفیئر چیک پوسٹ محبت فقیران میں چھاپہ مارکر میر محمد ،علی شیر،اسماعیل کی اغواء نما گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں جبکہ پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے گنگوری ریسٹ ہاؤس جانے سے پہلے وہاں پر توڑ پھوڑکی گئی اور نور محمد نامی شخص کو گرفتار کرکے اسکے کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں جمہوریت نہیں بلکہ مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ان واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے اختیار اور تمام اختیارات فورسزکے پاس ہیں ایف سی نے متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کے خلاف 4اپریل کو صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے اور 8اپریل کو شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے ماورائے قانون و آئین اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔