کوئٹہ: اکیسویں صدی میں بلوچستان پسماندہ بدحال اور عوام کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں حکمران عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں تعلیم ‘ صحت معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں کلیدی کردار ادا کرر ہے ہیں ان سہولیات کی فراہمی میں حکومت ناکام ہو چکی ہے بعض جماعتیں اکثر قوم پرستی کی سیاست کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اگر عملی طور پر قوم پرستی کے فکر پر عملدرآمد کیا جائے تو عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں تنقید کرنے والی جماعتیں قوم پرستوں اور پیٹ پرستوں میں فرق کریں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے موسیٰ خیل کے صدر سردار رحمت اللہ قیصرانی ‘ سینئر نائب صدر خانان شاہ ‘ عطاء اللہ خان و دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفد نے اپنے علاقے کے مسائل اور پارٹی امور سے متعلق آگاہ کیا اس موقع پر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بلوچستان کے عوام کسمپرسی ‘ بدحالی ‘ غربت افلاس اور دیگر سماجی مسائل سے دوچار ہیں بلوچستان باوسائل سرزمین ہونے کے باوجود عوام کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں عوام تعلیم ‘ صحت سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے عوام محروم ہیں بلوچستان کے اکثریتی لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور گلہ بانی تھا لیکن زراعت بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے خشک سالی سے مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل سمیت بلوچستان کے اکثریتی علاقے پسماندہ حالی ‘ غربت ‘ افلاس کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ بی این پی ایک قومی جمہوری سیاسی جماعت ہونے کے ناطے بلوچستان میں ترقی پسند خیالات و افکار کی ترجمانی کی ہے اور اصولی سیاست کے ذریعے عوام کی خوشحالی کی خاطر جدوجہد کرتی آ رہی ہے پارٹی نے ہمیشہ روشن خیال سیاست کے فروغ کو یقینی بنایا ہے بلوچستان کے عوام کا تعلق چاہئے کسی بھی قوم ‘ نسل ‘ زبان سے کیوں نہ ہو ہم نے ہمیشہ معاشرے کے اصولی سیاست کی ہے اور سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہم حکمرانوں کی اس توجہ جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں بلا رنگ و نسل عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائیں موجودہ حکمران عوام کو روزگار کی فراہمی میں دلچسپی نہیں لے رہے حکمران اپنے گروہی مفادات تک محدود دکھائی دیتے ہیں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں بلوچستان کے باشعور عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حکمرانوں کو مسترد کر دیں جو عوام کو دعوؤں کے ذریعے بیوقوف بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو مستونگ اور 24مئی کو قلات میں عظیم الشان جلسے منعقد کئے جائیں یہ جلسے تاریخی اہمیت کے حامل ہوں گے جس سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل سمیت دیگر قائدین خطاب کریں گے جو بلوچستان کی سیاست میں سنگ میل ثابت ہو گی بی این پی کے رہنماؤں و کارکنوں نے جام شہادت نوش کر کے قومی جمہوری سیاست کے فروغ کیلئے قربانیاں دیں انہوں نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل کے مسائل کے حل کیلئے ہم ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے گے اور موسیٰ خیل کے قائدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام سے قریبی روابط رکھیں اور پارٹی منشور گھر گھر پہنچائیں اور عوام کے مسائل حل کیلئے آواز بلند کریں بلوچستان کے عوام کی پذیرائی سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کونسی سیاست قوت ان کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔