کوئٹہ : بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ بلوچستان میں بربریت عروج پر ہے۔ چوبیس گھنٹے میں ضلع آواران میں چار لاپتہ افراد کی لاشیں پھینکی گئی ہیں۔ اور ان کو انکاؤنٹر میں مارے جانے کا جھوٹا ڈرامہ رچایاگیا ہے۔ کل مشکے میں سرور ولد حسو، اور مجاہد بلوچ کی لاشیں پھینکی گئیں اور مقابلے میں مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جو سراسر جھوٹ اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششیں ہیں ۔ ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور ساتھ ہی اخباری بیان اور انسانی حقوق کے اداروں کو ان کی گمشدگی رپورٹ کی گئی ہے۔ انہیں 27 فروری 2016 کو فورسز نے دوسرے بلوچوں کی طرح اغوا کیا تھا۔ کل چرچری مشکے میں آپریشن کرکے گھروں کو جلایا گیا اور ان لاپتہ افراد کی لاشیں مقامی انتظامیہ کے حوالے کیں۔ آج آواران شہر میں دو اور بلوچ لاپتہ افراد صمد ولد سلیمان اور اشرف ولد یار محمد کی لاشیں ہسپتال پہنچائی گئیں،جنہیں ریاستی فورسز نے 30 ستمبر 2015 کو ان کے گھروں کو اُٹھا کر لاپتہ کیا تھا۔ فورسز اور خفیہ ادارے بلوچ آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے تمام انسانی ، بین الاقوامی اور جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، آزادی پسندوں کے ساتھ سیاسی قیدی کا سلوک نہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عام بلوچوں کو مار کر بلوچ نسل کشی کی جارہی ہے۔ پاکستان کی ’مارو اور پھینکو‘ پالیسی کی ناکامی اور مختلف اداروں کی جانب سے مذمت کے بعد ریاست نے جعلی مقابلوں کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ بلوچستان کو میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کیلئے نوگو ایریا بنا دیا گیا ہے۔ اس پر میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو آواز بلند کرکے اپنی حقیقی وجود کا ثبوت دینا چاہئے۔ بصورت دیگر یہ نسل کشی اسی طرح جاری رہی گی۔ جس پر سالوں بعد نوحہ خوانی بلوچوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوگا۔ اتنی بربریت کے باوجود آزادی کی جد و جہد میں بلوچ قوم کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان ایک دن آزاد وطن کی شکل میں دنیا کے نقشے میں ضرور آئے گا، مگر اس وقت میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے عمل اور احتجاج کوئی معنیٰ نہیں رکھیں گے۔ جس طرح پچھلے سالوں صحافیوں نے بنگلہ دیش میں مظالم کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسے مطالبے اس وقت تک اپنی افادیت کھو چکے ہوتے ہیں۔