حملے کے بعد امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ افغان حکام نے بھی ملا اختر منصور کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔
پاکستاننی حکام نے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تباہ شدہ گاڑی سے ملنے والی دوسری لاش کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
مذکورہ لاش کی شناخت ولی محمد کے نام سے اس پاسپورٹ کے ذریعے ہوئی جو کہ جائے وقوعہ سے ملاتھا جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق یہ لاش افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق ولی محمد کے بھانجے محمد رفیق نے جو نمبر لکھوایا وہ پنجاب میں کسی خاتون کے نام پر ہے جبکہ پتہ بھی ادھورا لکھوایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے قلعہ عبداللہ کے میں ولی محمد کے رہائشی علاقے میں تفتیش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ ولی محمد کی لاش کے ڈی این اے سیمپل اسلام آباد بھیجے گئے تھے کہ شناخت ہوسکے کہ آیا یہ لاش ملا اختر منصور کی ہے یا جائے وقوعہ سے ملنے والے پاسپورٹ کے حامل ولی محمد کی ہے۔
ولی محمد کی لاش کی حوالگی ایک اعلیٰ سطحی معاملہ تھا جسے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ضابطے کی مکمل کارروائی کے بغیر اس طرح ورثاء کے حوالے کردینے سے معاملے کی نوعیت پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔
نوشکی حملے میں ہلاک ولی محمد کی لاش بغیر تصدیق ورثاء کے حوالے
![]()
وقتِ اشاعت : May 24 – 2016
حملے کے بعد امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ افغان حکام نے بھی ملا اختر منصور کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔
پاکستاننی حکام نے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ تباہ شدہ گاڑی سے ملنے والی دوسری لاش کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
مذکورہ لاش کی شناخت ولی محمد کے نام سے اس پاسپورٹ کے ذریعے ہوئی جو کہ جائے وقوعہ سے ملاتھا جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق یہ لاش افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق ولی محمد کے بھانجے محمد رفیق نے جو نمبر لکھوایا وہ پنجاب میں کسی خاتون کے نام پر ہے جبکہ پتہ بھی ادھورا لکھوایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے قلعہ عبداللہ کے میں ولی محمد کے رہائشی علاقے میں تفتیش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ ولی محمد کی لاش کے ڈی این اے سیمپل اسلام آباد بھیجے گئے تھے کہ شناخت ہوسکے کہ آیا یہ لاش ملا اختر منصور کی ہے یا جائے وقوعہ سے ملنے والے پاسپورٹ کے حامل ولی محمد کی ہے۔
ولی محمد کی لاش کی حوالگی ایک اعلیٰ سطحی معاملہ تھا جسے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ضابطے کی مکمل کارروائی کے بغیر اس طرح ورثاء کے حوالے کردینے سے معاملے کی نوعیت پر شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔