|

وقتِ اشاعت :   May 26 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ سردار اختر جان مینگل کی مقبولیت سے چند لوگوں کو بی این پی فوبیا ہو چکا ہے ٹینکی لیکس سے وہ اپنے ذہنی ہواس کھو بیٹھے ہیں اب ان کی حالات ایسی ہے کہ انہیں نا خدا ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم ۔ بلوچستان کا ہر شہری بخوبی اس بات سے واقف ہے کہ بی این پی کے رہنماؤں و ورکروں کو کس نے قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا یہ وہی لوگ تھے جو 2013ء کے انتخابات میں نیشنل پارٹی کے اتحادی تھے اور اب بھی موصوف کی پارٹی والے ان کی مالی مدد کر رہے ہیں سردار اختر جان مینگل سارونہ کے گدان میں رہیں یا دبئی میں عوام کو اس سے کوئی پریشانی نہیں تو نیشنل پارٹی کو کیا پریشانی لا حق ہے ترجمان نے کہا کہ 40ارب روپے کے خزانہ لیکس کے بعد اب عوام کی توجہ ہزاروں بیانات داغنے سے بھی نہیں ہٹائی جا سکتی یہ ان کی خام خیالی ہے کہ من گھڑت ، غیر سیاسی ، غیر سنجیدہ بیانات دے کر وہ عوام کی توجہ ہٹانے کامیاب ہو جائیں گے بلوچ نوجوانوں کو قتل و غارت گری کے داغ ان کے کپڑوں پر پہلے سے ہی تھے اب میگا سکینڈل کا داغ بھی لگ گیا جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں کرپشن کا سانپ گزر چکا ہے اب رسی پیٹنے سے کوئی فاائدہ نہیں یہ اب تاریخ کا حصہ بنا چکا ہے کہ ان کی ناک کے نیچے کرپشن ہوئی اب آئے روز بلوچستان کے اکابرین اور سیاسی جماعتوں کے خلاف جذباتی بیانات دینا مسئلے کا حل نہیں اس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ چور مچائے شور۔اخلاقیات کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے کالے دھن کو چھپانے کیلئے بیانات کا سہارا لے یہ مقصود ہی نہیں کہ اب اس سکینڈل کو چھپایا جا سکے اب یہ بلوچستان کے عوام کے سامنے عیاں ہو چکی ہے ہمیں ان کی پریشانی کا احساس ہے لیکن اخلاقیات ہمیں یہ اجازت نہیں دیتی کہ ہم کرپشن چاہئے کوئی بھی کرے اسے جائز قرار دیں بلوچستان جو اس وقت پسماندگی ، بدحالی ، غربت ، افلاس ، انسانی بنیادی ضروریات ، تعلیم ، صحت جیسی مسائل سے دوچار ہیں عوام نان شبینہ کے محتاج ہیں لیکن دوسری جانب موقع پرستوں، مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ایک محکمے میں اربوں کا کرپشن کر چکا ہے جو عوام کے ٹیکسوں اور عوام کی امانت تھے جس میں خیانت کی گئی اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر ذی شعوری قیادت کا شیوہ ہونا چاہئے عوام کی لوٹی ہوئی رقم کو واپس دی جائے کالے دھن کی رقم سے محالات بنانے اور لگژری زندگی گزارنے کیلئے جو کرپشن کی گئی وہ ناقابل برداشت ہے تنقید برائے تعمیرکا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم معاشرے میں کرپشن جیسے ناسور کے خلاف اپنا قومی فریضہ ادا کریں کیونکہ سیاسی قوم دوست ، وطن دوستی قوتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرے نہ کے کرپشن کے ناسور کو پروان چڑھائے2013ء کے انتخابات میں جن لوگوں نے انہیں اقتدار سونپا آج ان لوگوں کیلئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جنہوں نے بہت بڑے عرصے سے متوسط طبقے کے نام پر بلوچستان کے عوام کو لوٹا جنرل مشرف کے دور سے ہی انہوں نے سیاسی دشمنی کی بناء پر قتل و غارت گری سے بھی پیچھے نہیں رہے ہمیشہ ان کا محور و مقصد پیٹ پرستی ہی رہا بلوچستان کے بلوچ باشعور بخوبی جانتے ہیں کہ یہ بلوچ نسل کشی میں کس حد تک معاون و مدد گار ثابت ہوئے عوام نے انہیں مینڈیٹ نہیں دیاعوام کو اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ غیر بلوچ جماعت کے ساتھ مل کر بلوچ قومی مفادات کو کس حد تک ٹھیس پہنچایا گیا صحت اور تعلیم کے ایمر جنسی کے دعویداروں نے بلوچ علاقوں کیلئے لیکچررز پوسٹوں کو بیک جبنش قلم انہیں ختم کرنا اور یو ایس ایڈ پروگرام کو روک دیا لاکھوں افغان مہاجرین کی آباد کاری کو جائز قرار دینا ڈھائی سالوں میں بلوچ علاقوں کیلئے کوئی پروجیکٹ ترتیب نہ دینا ان کی بلوچ دشمنی کا ثبوت نہیں اسی طریقے سے بلوچوں کو معاشی ، معاشرتی طور پر پسماندہ رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی سردار اختر جان مینگل کے بیرون ملک رہائش کی مدت کو 7سال قرار دینادورغ گوئی ہے ترجمان کی کم علمی اور ذہنیت پر افسوس ہی کر سکتے ہیں کہ وہ اکیسویں صدی میں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ایسا ممکن نہیں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل پارٹی فیصلوں اور حکمت عملی کے تحت ملک میں ہوں یا بیرون ملک کسی کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہئے یہ پارٹی کے فیصلے ہیں جو اس کے ادارے کرتے ہیں اور پارٹی قائد بھی ان فیصلوں کے پابند ہے ترجمان نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد پارٹی نے احتجاجا پارلیمانی ممبران نے استعفی دیا اس کے بعد پارٹی نے احتجاجی تحریک شروع کی اور گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا جس سے خائف ہو کر آمر حکمرانوں نے حب سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل سمیت 1200سے زائد رہنماؤں ، کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور پارٹی قائد کو سندھ کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دی جاتی رہیں اور عرصہ دراز تک زندان میں رہے اس دوران زہر دینے اور قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے پارٹی قائد کی طبعیت وہاں خراب ہو تی گئی رہائی پانے کے بعد پارٹی نے حب سے لے کر کوئٹہ تک تاریخی ریلیوں ، جلسوں اور استقبالی پروگرامز جبکہ کوئٹہ میں تاریخ کا سب سے استقبال سردار اختر جان مینگل کا کیا گیا جو تاریخ کا حصہ ہے تاریخی جلسے سے انہوں نے خطاب کیابلوچستان کی آواز بلنداور حقیقی قومی جدوجہد کرنے پر پارٹی کے 89کے قریب رہنماؤں و کارکنوں کو شہید کیا گیا 28جون 2009ء کو پارٹی کونسل سیشن کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں سردار اختر جان مینگل پارٹی کے صدر اور شہید حبیب جالب بلوچ پارٹی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اس دوران عرصہ دراز سے سردار اختر جان مینگل بلوچستان میں موجود رہے اور مختلف اوقات میں پارٹی فیصلوں کے مطابق پارٹی قائد سے مشاورت اور رابطے کئے جاتے رہے اس میں کوئی قباعت نہیں کہ سردار اختر جان مینگل کہاں رہیں اس حوالے سے تنقید بے معنی ہے پارٹی مخالف بیانات دینے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کی توجہ بلوچستان میں ہونے والے تاریخ کے سب سے بڑے میگا سکینڈل سے توجہ ہٹانا ہے ان کے عمل و کردار سے بلوچ فرزندان بخوبی آگاہی رکھتے ہیں ترجمان نے کہا کہ ان کے ڈھائی سالہ دور میں ترقی صرف اس بات کی ہوئی ہے کہ موجودہ دور میں کوئٹہ، گوادر کے اہم قیمتی املاک کو لیز پر لے کر اپنے ناموں پر کرا لیا اور کوڑیوں کے چند ہزاروں روپوں کے ٹیکس ادا کئے گئے اور کروڑوں روپے کے زمینوں پر قابض ہوئے اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں میں املاک کو لیزپر لیا گیا جذباتی، تقاریر ، بیانات دورغ گوئی سے معاملات کبھی بھی درستگی کی جانب نہیں جا سکتے ٹینکی سکینڈل میں آئے روز ہونے والے پیشرفت سے ان کے چہرے پر لگا داغ مٹنے والا نہیں اور نہ ہی صدیوں بلوچستان کے عوام اس سکینڈل کو بھول سکیں گے عوام بخوبی واقف ہیں کہ ان کے قومی مفادات کو کس طریقے سے ٹھیس پہنچایا جایا گیاپارٹی کے حالیہ مستونگ و قلات کے جلسوں نے ان کی نیندیں حرام کر دیں ہیں ہم یاد دلاتے چلیں کہ اسی ٹینکی لیکس کے پیسوں پر موصوف کی جماعت کا قومی کونسل سیشن سرینا ہوٹل میں منعقد کیا گیا جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اس وقت بھی ہم نے یہی سوال کیا تھا کہ مڈل نے کس طرح کروڑوں روپے سیشن میں خرچ کر دیئے مگر اب خزانہ لیکس کے بعد سیشن کی حقیقت بھی عیاں ہو گئی اب تو صرف ٹینکی لیکس کے اب ایم ایس ڈی کے ادویات ، ایمبولینس کی خریداری میں 50پرسنٹ کمیشن ، پٹ فیڈرل کینال ، ایری گیشن سمیت نہ جانے کتنے سکینڈل آنے باقی ہیں ترجمان نے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل وہ واحد سیاسی رہبر ہیں جن کیمرکزی کابینہ و سینٹرل کمیٹی کے اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے بی ایس او کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی اور اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں ان میں اکثریت قبائلی افراد کی نہیں الیکشن میں بھی پارٹی قائد نے تمام نشستوں کیلئے پارٹی ورکروں کو ترجیح دی ۔