کوئٹہ : بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کا دوسرا اجلاس زیر صدارت مرکزی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ منعقد ہوا۔اجلاس میں تنظیمی کارکردگی، تنظیمی امور، تنقیدی نشست، علاقائی و عالمی سیاسی صورت حال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔پروگرام کی باقاعدہ شروعات عظیم بلوچ شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوئی۔اجلاس سے خطاب میں بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست کی جانب سے سیاسی تنظیموں پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں کا مقصد بلوچ عوام کو قومی و سیاسی شعور سے دور رکھنا ہے۔ ریاست بلوچستان میں اپنے مسلم بھائی چارگی جیسے کمزور اور خود ساختہ نظریات کے تضادات کو عام لوگوں سے چھپانے کے لئے بلوچ جہد آزادی کے خلاف سازشوں کو پروان چڑھا کر انہیں استعمال کررہی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی تعلیمات و تحقیق پر پابندی بلوچ انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کی پاکستانی مرکزی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ بلوچستان پر تسلط کے خلاف جاری تحریک کے اثرات کو زائل کرنے اور عوام و سیاسی پارٹیوں کو الگ کرنے کے لئے مشینری کے تمام پرزے یکساں متحرک ہیں،بلوچ سیاسی کارکنان کی گمشدگی و ان کے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی این پی جیسے نام نہاد مڈل کلاس پارٹیوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی و دیگر نام نہاد پارلیمانی جماعتیں بلوچ سیاسی کارکنان کی اغواء و قتل میں براہ راست ملوث و فوج کے ہمکار ہیں۔ کیوں کہ انہی کارکنان کے جدوجہد کی بدولت بلوچ عوام ان نام نہاد پارٹیوں کی موقع پرستانہ سیاست سے واقف ہو چکے ہیں۔ فورسز بلوچستان میں حکومت کے لئے اپنے سول نمائندے منتخب کرتی ہے تاکہ دنیا کے سامنے بلوچ مسئلے کو دھندلا کر سکے۔ نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، نام نہاد سرداروں کے ساتھ ساتھ بی این پی مینگل بھی بلوچ مستقبل کا سودا لگا کر ریاستی منصوبوں میں ہمیشہ سے شریک رہا ہے، رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں حکمرانی ہمیشہ فوج کی رہی ہے اس بات کا اعتراف بلوچستان کی کم و بیش تمام وزراء اعلیٰ کر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود نام نہاد پارٹیوں کی پارلیمانی سیاست سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مذکورہ پارٹیاں اپنے گروہی مفادات کی تحفظ میں قومی مستقبل کا سودا لگا رہے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر بلوچستان خطے کی دیگر ممالک کے لئے بھی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بحر ہند پر کنٹرول کی جنگ میں چائنا پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد بلوچستان میں تیزی کے ساتھ اکنامک کوریدور کے نام پر ائیر پورٹ و دیگر منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ چائنا سمندری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے نے کے لئے اہم سمندری راستوں پر پورٹ تعمیر کرکے ان راستوں کی ناکہ بندی کررہی ہے۔ اپنے ان عزائم کی تکمیل کے لئے بلوچستان کے اہم ساحلی شہر گوادر کا انتخاب کرکے چائنا تیزی سے اپنے مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد کررہی ہے۔ بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی اور زبان کی تفریق کو بنیاد بنا کر پاکستان مستقبل قر یب میں براہوئی و بلوچی زبان کے نام پر تضاد پیدا کرنے کو کاؤنٹر پالیسی کا مرکزی حصہ بنانے کا اراد ہ رکھتی ہے۔ ان تمام خطرا ت و امکانات کو مضبوط بلوچ پارٹیاں ناکام بنا سکتی ہیں۔ بی ایس او آزاد نے کہا کہ دنیا بھر میں پھیلے ڈیڑھ کر وڑ سے زائد آبادی رکھنے والی بلوچ قوم کے اندر سیاست کرنے والی پارٹیوں کو طاقت کے حصول کے لئے بلوچ عوام سے رجوع کرنا چاہیے۔عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ریاستی جبر کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی حیثیت سے ہم 2013کے شروع میں قومی اتحاد کے حوالے سے بلوچستان کی تمام سرگرم پارٹیوں کو اپنے تجاویز دے چکے ہیں۔ بی ایس او آزاد قومی اتحاد کے حوالے سے اپنا واضح موقف رکھتی ہے، اپنی موقف سے ڈرا فٹ کے زریعے بلوچ پارٹیوں اور پالیسی بیان کے ذریعے عوام کو بی ایس او آزاد نے پہلے سے ہی آگاہ کیا ہے۔