|

وقتِ اشاعت :   May 29 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر نادرا کے معاملات میں حکومتی جماعتوں کی بے جا مداخلت اور ان پر غیر قانونی طور پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے بلاک شدہ شناختی کارڈز کے اجراء کے کوششوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ 1979ء سے اب تک بلوچستان میں جتنے بھی شناختی کارڈز جاری کئے گئے ان کی بلا تفریق جانچ پڑتال اور تصدیق جوائنٹ انسوسٹی گیشن سے کی جائے جو کل تک افغان مہاجرین کو مختلف القابات سے نواز رہے تھے آج یہی ان کی آباد کاری کو جائز قرار دے رہے ہیں بلوچستان سیاسی یتیم خانہ نہیں ہم چاہتے ہیں کہ فوری طور پر افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ساڑھے پانچ لاکھ خاندانوں کو جاری شناختی کارڈز، پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، موسی بلوچ ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے رکن ضلعی صدر اختر حسین لانگو ، غلام نبی مری ، سابق ایم این اے سید ناصر علی شاہ ہزارہ نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر پارٹی کی خواتین مرکزی کمیٹی کی اراکین شہناز بلوچ ، شمائلہ اسماعیل جبکہ مرکزی کمیٹی کے اراکین جاوید بلوچ، میر جمال لانگو ، سردار عمران بنگلزئی جبکہ دیگر رہنماؤں میں میر غلام رسول مینگل ، سردار رحمت اللہ قیصرانی ، لقمان کاکڑ ، اسد سفیر شاہوانی ، آغا خالد شاہ، احمد نواز بلوچ ،ملک نوید دہوار، حفیظ الرحمان بنگلزئی ، حمید بلوچ ، ہدایت اللہ جتک ، شوکت بلوچ ، خدائے رحیم لہڑی ، شکیل مینگل ،میر طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ ،میر باسط لہڑی ، عباس لاشاری ، رضا جان شاہی زئی ، کامریڈ یونس بلوچ ، ٹائٹس جانسن ، حبیب مری ، سبز علی مری ، بابو مراد بنگلزئی ، علی لہڑی و دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی عرصہ دراز سے ایک اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغان مہاجرین جو غیر ملکی ہیں انہیں فوری طور پر باعزت طریقے سے افغانستان بھیجا جائے کیونکہ یہ غیر قانونی طور پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں انہی کی وجہ سے کلاشنکوف کلچر ، منشیات ، انتہاء پسندی ، فرقہ واریت ، دہشت گردی کے واقعات عرصہ دراز سے رونما ہو رہے تھے اور یہ ہماری معیشت پر بوجھ ہیں اب چونکہ افغانستان میں امن ہے وہاں جا کر پرامن طریقے سے زندگی گزار سکتے ہیں بارہا ہم نے مختلف فورمز پر اپنی پالیسی کو دہرایا لیکن بہت سے حکومتوں نے ان معاملات کو اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مقررین نے کہا کہ جو لوگ ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کے دور میں مہاجرین کو مختلف القابات سے نوازتے تھے آج بلوچستان میں ان کی حمایت کرنے سے پیچھے دکھائی نہیں دے رہے پورے ملک میں افغان مہاجرین کے انخلاء سے متعلق پالیسی واضح کر دی گئی ہے خیبرپختونخواء نے انہیں کیمپوں تک محدود کرکے ان کو واپس بھیجنے کا کہہ رہے ہیں لیکن بلوچستان میں ان کی آبادکاری کو درست اقدامات قرار دیا جا رہا ہے بی این پی پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں جدوجہد کر رہی ہے ہمارے مقاصد بھی یہی ہیں کہ تمام اقوام کو شیروشکر کر کے حقوق کیلئے جدوجہد کریں لیکن افغان مہاجرین کے متعلق پارٹی کی واضح پالیسی ہے کہ چونکہ ملکی و بین الاقوامی قوانین کے برعکس انہیں شناختی کارڈز جاری کئے گئے بہت سے جماعتوں نے انہیں سیاسی مقاصد کیلئے آج بھی آج بھی حکومتی مشینری کا بے جا استعمال کر رہے ہیں اور نادرا کے ارباب و اختیار کودھونس دھمکی بھی دی جا رہی ہیں ایسے لوگ جو غیر قانونی اقدامات سے گریزاں نہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے جب طالبان کے سربراہ کا شناختی کارڈز جو قلعہ عبداللہ سے بنا گیا تو اس سے ہمارے موقف کی تائید ہو گئی ہے کہ بلوچستان سے افغان مہاجرین کو شناختی کارڈز و دیگر دستاویزات جاری کئے گئے جو کسی طور پر قانونی تصور نہیں ہوں گے بلوچستان جو سیاسی یتیم خانہ بن چکا ہے دنیا کا کوئی قانون ایسے عمل کو جائز قرار نہیں دیتا کہ بڑی تعداد میں غیر ملکیوں چاہئے ان کا تعلق کسی بھی قوم ، زبان ، نسل سے ہو ملکی شہریت حاصل کریں جو قابل تشویش عمل ہے مقررین نے کہا کہ حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ان پر عملدرآمد بھی لازمی کرائے ہمارا شروع دن سے موقف ہے کہ 1979ء کے بعد باریک بینی کے ساتھ جاری تمام شناختی کارڈز کی تصدیق کے عمل کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے اور افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کیا جائے تمام اندراجات منسوخ کئے جائیں کسی پارٹی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کار سرکار میں مداخلت کرے نادرا کے سامنے جن جماعتوں نے مظاہرے کئے اور بلوچستان حکومت کی سرکاری مشینری کا بے جا استعمال کیا ہم نے اس وقت بھی ان چیزوں کی نشاندہی کی اب بھی بلوچستانیوں کے وسیع تر مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کیونکہ افغان مہاجرین نہ کہ صرف بلوچستان بلکہ یہاں کے مقامی پشتون ، ہزارہ ، آباد کاروں اور پورے بلوچستانیوں کے لئے مشکلات کا سبب بنیں گے انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر کوئی بھی ان کی جعلی شناختی کارڈز ، پاسپورٹ کے اجراء ، فہرستوں میں ناموں کے اندراج اور آبادی کار کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا یہاں کے عوام کے اجتماعی مفادات کو عزیز سمجھا جائے اب چونکہ بہت سے سرکاری افسران ، نادرا اہلکار گرفتار ہو چکے ہیں ان سے تفتیش کی جا رہی ہے بہت سے لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں ہمارے تحفظ و خدشات درست ثابت ہوئے ہم جو آواز بلند کی اور آج وقت نے اسے درست ثابت کر دیا حکمرانوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ تصدیق کے عمل کو بلاتفریق مکمل کریں باریک بینی کے ساتھ اس مرحلے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے خاندانوں میں مہاجرین کے نام اندراج کئے گئے ہیں ان ناموں کو بھی نکالا جائے تاکہ وہ خاندان بھی سکھ کا سانس لے سکیں ۔