کو ئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہاکہ آج 28 مئی کو بلوچستان میں 1998 کو ہونے والی ایٹمی دھماکوں اور دشت آپریشن کے کے خلاف بی این ایف کی کال پر بلوچستان میں پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال رہا۔ ہڑتال کے باعث بلوچستان کے اکثر علاقوں میں دفاتر ، کار و باری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند رہی ۔ آج سے اٹھا رہ سال پہلے پاکستان نے چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے بلوچ سرزمین کے خوشگوار موسم کو پُر آلود کرنے کے ساتھ کئی بیماریوں کو جنم دیا ۔ موسمی حالات میں تبدیلی سے بارشیں ناپید ہوگئی ہیں، جس سے جنگلی اور حیوانی حیات بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انسانوں میں جلد کا سرطان اور پیدائشی بیماریاں ہر روز بڑھتی جا رہی ہیں۔حاملہ خواتین کے بچے پیٹ میں مرجاتے یا Low Birth Weight پیدا ہوتے ہیں۔ جو زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتے ۔ کچھ اگر زندہ رہتے ہیں تو بھی اپاہج اور کئی دوسری بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس غیر محفوظ ایٹمی تجربہ کیلئے دانستہ طور پر بلوچ سرزمین کا انتخاب کیا گیا، کیونکہ پاکستانی قبضہ کے بعد سے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ یہ اسی کا تسلسل تھا۔ اس ہولناک تجربے کے بعد بلوچستان کے عوام خون کے آنسو روتے اور یوم سیاہ (آسروخ) مناتے ہیں تو دوسری طرف دشمن ہماری زخموں پر نمک پاشی کیلئے جشن منا رہا ہے۔ اس میں بلوچ وفاق پرست، جو اپنے آپ کو قوم پرست کہتے ہیں، بھی دشمن کے ساتھ برابر شریک ہیں۔ آج کیچ میں نیشنل پارٹی کے ظہور بلیدی، اسماعیل بلیدی اور ڈی سی کیچ نے ایف سی کمانڈنٹ کے حکم پر ایک اسکول سے چند بچوں کو زبردستی بازار میں لایا اور ایک ریلی کا شوشہ کیا۔ جو قابض پاکستان کے ساتھ بلوچستان میں ایٹمی ہتھیاروں سے پیدا ہونے والی تابکاریوں پر جشن مناکر جرم میں برابر شریک ہو گئے ہیں۔ یہی نام نہاد نمائندے قابض اور آقا کیلئے قوم پرست کہلائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ بلوچ نسل کشی میں فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حالیہ دشت آپریشن انہی نیشنل پارٹی اور بی این پی جیسے وفاق پرستوں کی ایما پر کیا گیا۔ جہاں کئی گھروں کو لوٹا اور جلایا گیا اور خواتین و بچوں پر تشدد کے ساتھ کئی بلوچ فرزندوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ 28 مئی کی مناسبت سے بی این ایف کی جانب سے آواران اور کولواہ میں ریفرنسز کا انعقاد بھی کیا گیا۔ ترجمان نے ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کرنے والے ادارے آئی اے ای اے اور دوسری تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں ایٹمی تجربہ کرکے بلوچ قوم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے پر پاکستان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔