|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2016

کوئٹہ : زمیندار ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹاوروں کے گرنے سے بجلی کا شدید بحران دیہی علاقوں کے لوگ اور زمیندار ٹیوب ویل ایک طرف اب تو پینے کے پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ سٹی فیڈروں نے باقی کثر پوری کر دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گرڈ کے اہلکاروں کے بھی وارے نیارے ہو گئے بجلی کی فراہمی کے لئے دکان کھول رکھی ہے جی ایس او کے ایکسئین اور ایس ڈی او اور پی ڈی سی کی گرفت مضبوط نہیں گرڈ انچارج کا جنرل ڈیوٹی ہے مگر وہ دو دن گرڈ آتے ہیں سمری بنا کر28 دن اپنے کاموں میں مصروف ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ٹاوروں کے کام کی پوزیشن بھی معلوم نہیں کیونکہ این ٹی ڈی سی کا ایکسئین ایس ڈی اور موبائل پر بات کرنے کے لئے تیارنہیں یہ تمام الزامات حقیقت پر مبنی اور میں ترجمان بہادر خان مشوانی جوابدہ ہیں کیسکو کے چیف ایگزیکٹیو جو کہ صوبے کا فرزند ہیں باریک بینی سے اس کا نوٹس لے دریں اثناء زمیندار ایکشن کمیٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بہادر خان مشوانی نے بذریعہ فیکس وفاقی وزیر پانی وبجلی کو بلوچستان میں بجلی کے شدید بحران سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے زمینداروں کو زکواۃ میں جو پانچ گھنٹے بجلی دی جا رہی تھی ایک ہفتہ قبل دو ٹاوروں کے گرنے سے اب دو گھنٹے دیاجارہا ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے برابر ہے اب بھی مجموعی طور پر ٹرانسمیشن لائنوں میں چھ سو میگاواٹ بجلی موجود ہے مگر عابد شیر علی کے ظلم کی وجہ سے قسمت کا کوٹہ چار سو میگا واٹ مقررہے اربوں روپے کے باغات تباہ ہو گئے ہیں کسان مزدور کسی بھی وقت سڑکوں پر نکلنے والے ہیں نوٹس لیاجائے