کو ئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد شال زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر منعقد ہوا ۔اجلاس کے مہمان خاص مرکزی انفارمیشن سیکریٹری لکمیر بلوچ اور اعزازی مہمان مرکزی کمیٹی کے ممبر دین جان بلوچ تھے۔اجلاس کی شروعات عظیم بلوچ شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوئی۔اجلاس میں سابقہ کارکردگی رپورٹ،مرکزی سرکیولر،تنظیمی امور،علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال ،تنقیدی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے ۔اجلاس سے بی ایس آزادکے رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست بلوچ قومی تحریک کوختم کرنے کیلئے کثیرالجہتی پالیسیوں پر عمل ہے ۔قبضہ گیریت کے تضادات اور بلوچ عوام کی پسماندگی کے اسباب کو چھپانے کے لئے بلوچ حق آزادی کے لئے اُٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی انتہائی شدت کے ساتھ کوشش کی جا رہی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ تحریک قبضہ گیریت اور غلامی کے خلاف بلوچ عوام کی تحریک ہے لیکن ریاستی مشینری اس جدوجہد کو پراکسی ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے پروپگنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ہوئے فورسز کے نمائندے تجزیہ کار کا لبادہ اوڑھ کر بلوچستان کے حوالے من گھڑت تجزیہ کرتے ہیں تاکہ بلوچ تحریک کا چہرہ مسخ کیا جا سکے۔ بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ تحریک کے مقاصد اور اہداف بالکل واضح ہیں اس لئے ریاستی پروپگنڈے بلوچ معاشرے میں اپنے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہورہے ہیں۔ریاست حواس باختگی میں قوت کو بھی انتہائی بے رحمی سے استعمال کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچ خطہ اپنے جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی بدولت انتہائی اہمیت کا حامل خطہ رہا ہے۔ اہم تجارتی راستوں کا مرکز ہونے کی حیثیت روز بہ روز بلوچ سرزمین کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ سرمایہ دار طاقتیں اپنے مفادات کے حصول ریا ست کے لئے سے بلوچ سرزمین کے وسائل اور بلوچ جغرافیہ کو آسان قیمتوں پر حاصل کررہے ہیں، جس کے منفی اثرات مستقبل قریب اور بعید میں بلوچ قوم پر ہی پڑیں گے۔ کیوں کہ ریا ست کی نظر میں بلوچ شناخت، زبان ، تاریخ و اقدار کی کوئی قیمت نہیں۔ ممکنہ سرمایہ کاروں کو مزدوری کے نام پر لاکھوں لوگوں کی بلوچستان میں آباد کاری ہزاروں سالوں پر محیط بلوچ تاریخ و اقدار پر کاری ضرب ثابت ہوگی اس لئے بلوچ عوام خصوصاََ نوجوان جدوجہد کے تما مذرائع استعمال کرکے بلوچ عوام کی مرضی کے برعکس ہونے والی سرمایہ کاری کے خلاف کمربستہ ہوجائیں۔ ریاست اپنے مقامی گماشتوں کے ذریعے اس سرمایہ کاری کو بلوچ عوام کے حق میں ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاویلیں گھڑ رہی ہے لیکن وہ اس حقیقت کو دانستہ نظر انداز کررہے ہیں کہ ریا ست کے زیر قبضہ کوئی بھی معاہدہ بلوچ عوام کے حق میں نہیں بلکہ صرف ایک مخصوص طبقے کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اجلاس میں تمام ایجنڈوں پر بحث مباحثہ کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں زونل آرگنائزنگ باڈی تحلیل کرکے تنظیمی پروگرام کو آگے لے جانے کیلئے نئی زونل کابینہ تشکیل دی گئی۔