|

وقتِ اشاعت :   July 27 – 2016

اسلام آباد : ء سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان کی ٹرانسمیشن لائنیں مطلوبہ طلب براداشت کرنے کی سقط نہیں رکھتی ، بلوچستان کی طلب 1680 میگاواٹ ہے جبکہ ٹرانسمیشن لائنیں1100میگاواٹ بجلی کی سپلائی برداشت کر سکتی ہیں فنکشنل کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر محمد عثمان خان کاکٹر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ، فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں فیڈرل فلڈ کمیشن اور اس کے ماتحت اداروں کی پچھلے تین سالوں کے دوران کارکردگی ، چشمہ ژوب ٹرانسمیشن لائن اور دیگر کم ترقی یافتہ علاقوں کی ٹرانسمیشن لائنوں کی تکمیل کے علاوہ پسماندہ اضلاع اور فاٹا کے دیہی وشہری علاقوں میں پچھلے تین سالوں کے دوران لوڈ شیڈنگ اور لائن لاسسز (ترسیلی نقصانات)کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ اسجد امتیاز چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ فلڈ کمیشن کے 13 ممبران ہیں ممبرصوبوں سے ہیں جبکہ کمیشن میں این ایچ اے ، پاکستان ریلوے ، پلاننگ کمیشن ، واپڈا ، این ڈی ایم اے ، انڈ س ریور سسٹم اتھارٹی اور محکمہ موسمیات کے لوگ بھی شامل ہیں ۔جس پر چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ جن علاقوں سے سیلاب شروع ہوتا ہے اور تباہی بھی زیادہ ہوتی ہے وہاں سے کمیشن میں کوئی ممبرنہیں ہے فاٹا گلگت بلتستان اور اے جے کے نمائندے بھی کمیشن میں شامل کیے جائیں ،چیئرمین فلڈ کمیشن نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ فیڈرل فلڈ کمیشن 1977 میں قائم ہواجس کا بنیادی مقصد فلڈ سے بچاؤ کیلئے منصوبہ بندی کرنا ، فلڈ سکیموں کی سکرونٹی کرنا ، سیلاب میں نقصانات کا جائزہ لے کر تحفظ کے اقدامات اٹھانے وغیر ہ شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ادارے کے کل 19 افسران کی سینکشنڈ پوسٹیں ہیں جن میں سے پانچ خالی ہیں ، فلڈ پروٹیکشن کا منصوبہ دس سال کیلئے ہوتا ہے منصوبے کے فنڈ وزارت خزانہ سے صوبوں کو جاتے ہیں اور فلڈ کمیشن صرف منصوبوں کی اوور سائٹ کرتا ہے ۔سیلاب کے حوالے سے وارننگ سسٹم بھی ہمارے ادارے کا کام ہے ۔چیئرمین کمیٹی محمد عثمان خان کاکٹر نے کہا کہ ملک میں ڈویلپمنٹ پر اربوں کھربوں روپے خرچ کر دیئے ہیں مگر سیلاب کو روکنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ڈویلپمنٹ منصوبے بھی تباہی کا شکا رہو جاتے ہیں سیلاب کو روکنے کیلئے ان علاقوں میں منصوبہ بندی کی جائے جہاں سیلاب شروع ہوتا ہے نہ کہ ملک کا خزانہ پنجاب لاہور میں خرچ کیا جائے ۔سوات میں 2010 میں 40 فٹ اونچا سیلاب آیا سوات میں انگریز کے دور کے پل بنے ہوئے ہیں اور 2010 میں 80 ارب کا نقصان ہوا اور اسی طرح ہر سال سیلاب سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے ۔کمیٹی ہدایت کرتی ہے کہ 80 فنڈز ان علاقوں میں منصوبہ جات پر خرچ کیے جائیں اور ملک میں چھوٹے ڈیمز بنائیں جائیں اور آئندہ کمیٹی اجلاس میں سیلاب کو روکنے کیلئے سائینٹفک منصوبہ بندی کی جائے ۔ ایڈیشنل سیکرٹری پانی و بجلی عمر رسول نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں بجلی طلب 1680 میگاواٹ ہے جبکہ فراہم 840 میگاواٹ کی جارہی ہے گرمیوں میں ایئر کنڈیشن کی وجہ سے طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے ملک میں ٹرانسمیشن لائنوں میں 19 ہزار میگاواٹ کی ترسیل کی جاسکتی ہے اس کو بھی بہتر کیا گیا ہے 2015-16 میں 16500 میگاواٹ کی ترسیل کی گئی جبکہ اگلے سال17 ہزار 4 سو تک کی ترسیل کی جا سکے گی ۔بلوچستان مطلوبہ طلب کے مطابق بجلی حاصل نہیں کر تا اس کی ٹرانسمیشن لائن برداشت نہیں کر سکتی ،بہتری کیلئے ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشن بنائے جا رہے ہیں ۔عمر رسول نے ٹرانسمیشن لائنوں اور مختلف گرڈ اسٹیشنوں کے منصوبہ جات بارے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی اور خضدار گرڈ اسٹیشن بن چکا ہے ۔خضدار اور لورا لائی ٹرانسمیشن لائن کو کوئٹہ تک بنانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ڈیرہ مراد جمالی کا گرڈ اسٹیشن دسمبر2016 تک مکمل ہو جائے گا گوادر ، خضدار ٹرانسمیشن لائن کو نیشنل گرڈ سے ملانے کا کام شروع ہے اور ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی لینے کیلئے معاہدہ بھی کیا جارہا ہے ۔چشمہ ژوب ٹرانسمیشن لائن کیلئے وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ایکنک نے منظوری دے دی ہے زمین حاصل کر لی گئی ہے دو فیزز میں کام کیا جائے گا۔چکدرہ گرڈاسٹیشن کیلئے زمین حاصل کر لی گئی ہے ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔فنکشنل کمیٹی کو تبایا گیا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ 2005 میں شروع ہوا 2007 سے2014 تک طلب و پیدوار میں بہت فرق رہا ، شہری علاقوں کی چھ اور دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے مسئلہ ہونے پر فورس لوڈشیڈنگ بھی کی جاتی ہے ۔