اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیئرمین سینیٹر داؤد اچکزئی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مشرقی روٹ پر دھڑادھڑ کام شروع ہے مغربی روٹ پر ایک فیصد بھی کام نہیں ہو رہا ۔ کچی سٹرکوں پر تجارتی قافلہ کیسے چین روانہ کر دیا گیا ہے ،تجارتی قافلے کی روانگی کی زیادہ تشہیر نہ کی جائے تاکہ حکومت اور ادارے نقصان سے بچے رہیں، اقتصادی راہداری سے لفظ ’’پی‘‘ کو لکھا اور پڑھا نہ جائے تاکہ کوئی اس کو پاکستان اور کوئی اس کو پنجاب چین اقتصادی راہداری نہ سمجھے ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ 2013 سے کمیٹی اجلاسوں میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے ’’کام ہورہا ہے ‘‘ آگاہ کیا جاتا ہے اور حالیہ چین کے دورے میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں مطمئن نہیں کیا جا سکا ۔سینیٹ قائمہ کمیٹی مواصلات کے جمعرات کے روز اجلاس میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری پر کمیٹی نے مغربی روٹ پر کام شروع نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے موٹر وے کے فاصلے کی بنیاد پر مقامی شہریوں کو بھرتی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں سٹرکوں کی لمبائی زیادہ اور ملازمتیں کم ہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے آغاز حقوق بلوچستان کی 171 اسامیوں پر تاحال بھرتی مکمل نہ کرنے پرناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی ہدایت پر قومی علاقائی اخبارات میں اشتہارات سے امیدواروں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا لیکن این آئی آر سی میں حکم امتناعی ختم کر ا کر جلد بھرتیاں شروع کی جائیں ۔ سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ ڈاکخانہ جات کی 7 سروسز کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہر اجلاس میں عملدرآمد کی یقین دہانی کرانے کے باوجود کمیٹی ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا ، ڈاکخانہ جات کو زیادہ سے زیادہ منافع بخش بنانے کیلئے اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے این ٹی ایس ٹیسٹ کے حوالے سے کہا کہ سرکاری دفاتر میں محکمہ انہ بھرتی کمیٹیوں /بورڈ کے باجوود پرائیوٹ کمپنیوں سے ٹیسٹ کے نام پر امیدواروں سے کروڑوں اربوں جمع کیے جارہے ہیں ، خالی اسامیوں پر بھرتیاں محکمہ انہ بورڈز کے ذریعے کی جائیں ڈاکخانہ جات اور موٹر وے پولیس کے بجٹ کی سمریوں کو وزارت خزانہ جلد ازجلد منظور کر کے فنڈز جاری کرے اور کہا کہ ڈاکخانہ جات یتیم محکمہ ہے جس کا وزیر موجود نہیں ۔ موٹر وے پر ای ٹیگ اور ایم ٹیگ چارجز میں اضافے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے آگاہ کیا گیا کہ ایم ون ، ایم تھری، ایم فور وصول ہونے والا اضافہ آج سے واپس لے لیا گیا ہے اور کہا کہ ڈی آئی خان سے ژوب چار رویہ شاہر اہ کیلئے سیکرٹری مواصلات کے ساتھ چین جا رہے ہیں پہلے پیکج کا پی سی ون بن گیا ہے زمین حصول کیلئے سکیشن فور ہوگیا ہے ۔ چیئرمین این ایچ اے نے مزید بتایا کہ این ایچ اے موٹر وے پر ایمرجنسی رسپانس سینٹر قائم کر رہا ہے جہاں گاڑیوں کی ورکشاپ میڈیکل کی سہولت کے علاوہ مدد کیلئے پولیس بھی موجود ہو گی ۔ این 50 کوئٹہ سے ژوب دو، کوئٹہ سے کراچی چار، این85 سہراب سے گوادر دو سینٹر بنائے جائیں گے۔ملتان سکھر سیکشن 2019 تک مکمل ہوگا برہان سے ڈی آئی خان 2018 تک مکمل ہوگا۔ سینیٹر عثمان خان کاکٹر نے کہا کہ وزیراعظم مغربی روٹ بنانا نہیں چاہتے ترجیع مشرقی روٹ ہے جس کیلئے چیئرمین این ایچ اے وزیراعظم کے مشیر ہیں ۔سینیٹر سجاد حسین طوری نے فاٹا اور گلگت بلتستان کو آبادی کی بنیاد پر ملازمتوں میں الگ الگ کوٹے کا سوال اٹھایا جس پر آگاہ کیا گیا کہ سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں سمری پیش کی جائے گی ۔ سینیٹر کامل علی آغا نے ای ٹیگ ایم ٹیگ کے چارجز میں اضافہ واپس لینے کی تعریف کی۔