اسلام آباد: سینیٹ کی قا ئمہ کمیٹی کم ترقی یافتہ علاقہ جات کا اجلاس چیئرمین عثمان خان کاکڑ کی صدارت میں پارلیمنٹ کے کمیٹی روم نمبر 4 میں منعقد ہوا ، جس میں وزارت منصوبہ بندی و ترقی اصلاحات کے ملک بھر میں بالخصوص پسماندہ علاقہ جات میں ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات کے دوران معلوم ہوا کہ بہت زیادہ منصوبے نہ صرف سست روی شکار ہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کی بیوروکریسی کی ناہلی اور نالائقی کی وجہ سے اہم ترین منصوبوں کا پی سی ون بھی تیار نہ ہو سکا ، منصوبہ بندی حکام نے بتایا کہ کل بجٹ وزارت منصوبہ بندی کا 3.4 ٹریلین روپے تھا جبکہ 6.5 بلین روپے خرچ ہوئے ہیں ۔پنجاب کو 6 ارب روپے ، سندھ کے لیے 8 ارب ، بلوچستان کے لیے 47 بلین روپے جبکہ فاٹا کے لیے 125 ارب روپے رکھے گئے ۔تمام صوبوں کو خط لکھا گیا ہے کہ غیر منظور شدہ اور منصوبوں پر کا م شروع نہ ہونے کے حوالے سے آگاہ کریں ۔بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کا انکشاف ہوا ،بلوچستان میں واقع با توز آئی ڈیم کا ٹھیکیدار بلوچستان کے صوبائی وزیر کا بھائی نکلا ۔ٹھیکیدار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنا چاہے تو صوبائی وزیر سامنے آ جاتا ہے ۔وزارت منصوبندی حکام کے مطابق ڈیم کی تعمیر کی تاخیر ٹھیکیدار کی من من ہے ۔باتوزعئی ڈیم انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔کمیٹی نے بلوچستان میں خشک سالی پر تشویش کا اطہار کرتے ہوئے کہا انتہائی خطر ناک خشک سالی شروع ہو چکی ہے ،سینیٹر جہاں زیب جمال دینی نے کہا کئی خاندان خشک سالی کی وجہ سے بلوچستان سے سندھ اور پنجاب میں خانہ بدوشی کر چکے ہیں ۔چیئرمین عثمان کاکڑ نے بلوچستان کے اعلان کردہ ڈیموں کی تفصیلات طلب کیں ، جس پر وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران 100 کے قریب سمال ڈیم بلودچستان میں منظور ہو چکے ہیں ۔لیکن بلوچستان کی ھکومت ڈیموں کی تعمیر کے لیے مناسب تعاون نہیں کر رہی ۔صوبائی حکمتیں کسی بھی منصوبے کا پی سی ون نہیں بھیج رہیں ۔چیئرمین عثمان کاکڑ نے کہا ہمیں اعلانات نہیں اقدامات چاہیءں ۔ اربوں روپے کے ڈیم نہیں چاہیئے ، بلکہ 20/20 لاکھ کے چھوٹے چھوٹے ڈیم چاہیئیں ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال ریلوے کا کوئی منصوبہ شروع نہ ہو سکا ۔جہاں زیب جمال دینی نے منصوبہ بندی حکام کو کہا کہ آپ لوگ منصوبے کو تاخیر کا شکار کروا دیتے ہو جس کی وجہ سے منصوبوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے ۔جس پر منصوبہ بندی حکام نے کہا وزارتوں کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کے حصول میں وزارتیں سستی کرتی ہیں ، صوبائی حکومتوں کو ہم نے ایک خط لکھ دیا ہے کہ ہمیں تمام منصوبوں کی منظوری اور ان کے بارے تاخیر ہونے کی وجویات بیان کی جائیں