کوئٹہ: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اور بلوچستان کے دیگر وکلاء رہنماؤں نے بلوچستان بار کونسل سمیت سانحہ آٹھ اگست کے متاثرین کے لئے آنے والے فنڈز کی نیب سے تحقیقات کرا نے کا مطالبہ کیا ہے۔کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ نے کوئٹہ پریس کلب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر وسیم جدون ایڈوکیٹ اور بلوچستان بار کونسل کے نائب صدر شاہ محمد جتوئی ایڈوکیٹ و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ سانحہ آٹھ اگست میں 56وکیل شہید اور چہتر سے زیادہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں پہلے سی ایم ایچ اور بعد ازاں کراچی منتقل کیا گیا ۔متاثرین کیلئے پنجاب حکومت اور سردار یارمحمد رند کی جانب سے اعلان کردہ فنڈز تو مل گئے مگر بلوچستان حکومت کا سرکاری فنڈ تاحال نہیں ملا، زخمیوں کے فنڈ میں خورد برد کیلئے فہرست میں 24 ایسے لوگ شامل کئے گئے جو زخمی ہی نہیں ہوئے ۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ آٹھ اگست کے بعد بلوچستان بار کونسل کے بینک اکاؤنٹ سے اٹھائیس لاکھ روپے نکالے گئے مگر اس کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ کہاں خرچ کئے گئے ، بار کونسل کے چیئرمین اور دو ٹریژری ممبرز اس کرپشن کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان بار کونسل کے گزشتہ 15 سال کا ریکارڈ تحقیقات کیلئے نیب کے حوالے کیا جائے ، سانحہ آٹھ اگست کے شہداء اور زخمیوں کیلئے ملنے والے فنڈز کا ریکارڈ بھی نیب کے حوالے کیا جائے ، تمام وکلاء کے ریکارڈ کی اے جی آفس ، بلوچستان یونیورسٹی ، ایف بی آر اور ایچ ای سی سے تصدیق کروائی جائے۔سانحہ8 اگست کی زخمیوں کی جو کیٹیگریز بنائی گئی ہے اسے عوام کے سامنے لایا جائے ۔میگا کرپشن میں ذمہ داروں کے خلاف کا روائی عمل میں لائی جائے ۔ایڈووکیٹ جنرل وکلاء کے معاملات کو غلط طور پر استعمال نہ کریں ۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان بار کونسل کے فنڈز میں خرد برد کی اطلاع پر اس وقت کی کا بینہ کو تحلیل کر کے نئی کابینہ کا تشکیل دی گئی واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ 14 نومبر2015 کو شکیل پینل اور وکلاء پینل کے ساتھیوں نے مل کر فارمیشن بنائی جو سانحہ8 اگست تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی اس وقت بار کونسل کے اکاؤنٹ میں 2 کروڑ روپے کے قریب فنڈز موجود تھے واقعہ بعد چار ممبران بار کونسل کو ساتھ ملا کر پروفیشنل پینل نے اپنی فارمیشن بنائی اور فنڈز کی مد میں طریقہ کار یہ ہے کہ بار کونسل کا جوائنٹ اکاؤنٹ ہو تا ہے جس سے 2 عہدیداروں کے دستخط سے رقم نکالی جا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق 2 بلینک چیکس پر دستخط کر کے چیئرمین کو دیئے جس کے مطابق28 لاکھ روپے نکالے گئے اور اب اس پر جھگڑا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے کہ نان پریکٹسنگ ایڈووکیٹس جن میں سرکاری ٹھیکیدار اور بزنس مین ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے بعد اب تک90 دنوں میں تین بار کے عہدوں اور فارمیشن میں تبدیلی کی گئی اس عجلت کا بلوچستان کا ہر وکیل جواب مانگتا ہے انہوں نے کہا کہ سردار یار محمدرند کی جانب سے 20 لاکھ روپے ناروے کی این جی اوز نے34 لاکھ لاہور سے سیال ایڈووکیٹ نے10 اور پاکستان بار کونسل نے175 لاکھ روپے دیئے تھے ان پیسوں کا کیابنا اس کا حساب ضروری ہے اور بار کونسل روز کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف کا رروائی کر کے ان کے لائسنس منسوخ کیا جائے۔