اسلام آباد: معروف قانون دان علی احمد کرد نے کہا ہے کہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر ذلت آمیز اعتراضات وفاقی وزیر کے شایان شان نہیں انہیں سپریم کورٹ میں اعتراض کرنا چاہئے تھا وزیرداخلہ نے اتنے بڑے سانحہ پر کوئٹہ جانے کی جرات تک نہیں کی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر اعتراضات کرنا وزیرداخلہ کا حق ہے مگر انہیں سپریم کورٹ میں اعتراضات پیش کرنے چاہئیں تھے،پریس کانفرنس میں جج کے خلاف باتیں کرکے چوہدری نثار نے زیادتی کی یہ ایک وفاقی وزیر کی شان کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کوئی مقدس گا ئے نہیں،عدالتوں پر اعتراضات ہوتے ہیں لیکن اس کا قانونی طریقہ کار ہے،ہم بھی آئے روز ججوں پر تنقید کرتے ہیں۔چوہدری نثار نے جو بات کی وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھی وفاق کا حصہ ہے کوئٹہ میں اتنے بڑے واقعہ پر چوہدری نثار نے وہاں جانے کی جرات نہیں کی نہ ہی وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے یہ معاملہ چوہدری نثار کی ذات کا نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے وزیر داخلہ کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں خامیاں ہیں اس میں ایف سی بارے صرف چھوٹا سا ریمارکس دیا گیا اس کی بھی تفصیل ہونی چاہئے تھی