|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2016

کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے بلوچستان میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا کہ تخت لاہور کی سرپرستی میں بلوچستان کے اندر تاریخ کی بدترین کرپشن ہو رہی ہے .انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ مشتاق رئیسانی میگا کرپشن کیس، نیٹو فورسز کے قافلے سے بھتہ لینے،ایرانی تیل کی سپلائی جیسے سکینڈل میں اربوں روپے کمانے،اعلیٰ افسران کیساتھ کرسٹل جیسی منشیات کا کاروبار کرنے میں ملوث ہیں۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ چیف سیکرٹری کو ریٹائیرمنٹ کے بعد آسانی سے رخصت نہیں کرینگے ان سے پائی پائی کا حساب لیا جائیگا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان میں ترقیاتی بجٹ لیپس کر انے کے زمہ دار ہیں ،اور ا سکے خلاف عدالت میں کیس دائر کرینگے جب سے چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ تعینات ہواہے صوبے میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے ۔ سردار یار محمد رند نے یہ بات بدھ کے روز سرینا ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرا نے کے موقع پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر پارٹی کے سنیئر نائب صدر میر اسماعیل لہڑی اور پارٹی کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے ، سردار یار محمدرند نے کہاکہ اس وقت بلوچستان تاریخ کے نازک ترین اور مشکل دور سے گزر رہاہے 68سالوں میں اتنی کرپشن نہیں ہوئی جتنی موجودہ چیف سیکرٹری کے دور میں ہوئی اور اس نے بلوچستان کو نقصان پہنچایا ہے ۔انہوں نے کہاکہ صرف سابقہ سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی ہی کرپشن میں ملوث ہے یا اس کے ساتھ کوئی اور لوگ بھی ہے اگر سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے 76کروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں تو کیا وہ اکیلا اس کرپشن میں ملوث ہے یا کوئی اور اس کے ساتھ ہیں یقیناًچیف سیکرٹری کی مرضی کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ افریقہ جیسے ملک میں بھی اتنے بڑے پیمانے پر صرف ایک محکمے میں کرپشن کی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن ملوث سلیم شاہ ، اور سہیل شاہ کو وعدہ معاف گواہ بنا کر رہا کردیا گیا ہے اس کی کوئی تو وجہ ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ چیف سیکرٹری بلوچستان وہی کچھ کر رہے ہیں جو تخت لاہور سے ان کو احکامات مل رہے ہیں اور بلوچستان کا پیسہ تخت لاہور میں خرچ کیا جا رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ضلع کچھی میں 5سال سے زیادہ وسیم نامی اسسٹنٹ کو ڈپٹی کمشنر کے اختیارات دیئے گئے ہیں وہ اپنی مرضی سے علاقے میں کام کر رہا ہے چادر و چار دیواری کو پامال کر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیٹو کے گاڑیوں سے 8ہزار روپے فی گاڑی وصول کی جارہی ہے جبکہ دوسری گاڑیوں سے 20ہزار روپے وصول کیاجاتا ہے اور ڈھاڈر کے ایک خاص ہوٹل پر نیٹو کی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں کو روکنے کا حکم دیا جا تاہے مقامی ہوٹل کا مالک 3ہزار روپے فی ٹرک وصول کرتا ہے سردار یار محمد رند نے کہاکہ وسیم اور فرید کوئٹہ سے کراچی جانے والے گاڑیوں اور آنے والے گاڑیوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میرے خلاف کئی مقدما ت درج کئے گئے ہیں اور ہم عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جس علاقے میں فرید اور وسیم موجود ہوتے ہیں اس علاقے میں کوئی چوری ڈکیتی نہیں ہوتی بلکہ دوسرے علاقوں میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ دونوں آفیسران چیف سیکرٹری کے خاص آدمی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میرے حلقے میں دفعہ 144 نافذ کرنے سے مجھے ڈرایا نہیں جا سکتا میرے خلاف بڑے سے بڑے لوگوں نے مقدمات درج کئے میں اس وقت نہیں ڈرا اب کیا ڈرونگا ۔انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنرکچھی نے چند روز قبل جو پریس نوٹ جاری کیا تھا وہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے مجھے معلوم ہے کووہ کس کے کہنے پر جاری کیا گیا ہے ۔قطری شہزادوں کووزیراعظم ہاؤس اور چیف سیکرٹری بلوچستان ، کی ایماء پر میرے علاقے میں شکار کی اجازت دی گئی ہے گزشتہ روز قطری شہزادے بلوچی میڑ ھ لے کر میرے آبائی گاؤں سنی شوران پہنچ گئے تھے ہم نے ان پر واضح کردیا تھا کہ آپ فوری طورپر میرے گاؤں سے دور چلے جائیں زمیند داروں کی فصلوں میں کوئی شکار نہیں ہوگا تلور نایاب جانور ہے میرے علاقے میں شکار نہیں ہونے دونگا جس پر انہوں نے میری بات مان لی اور علاقے سے چلے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چیف سیکرٹری کے دور میں جتنے بڑے پیمانے پر کرپشن اور لوٹ مار ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طورپر ایک سیٹنگ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے ہم تمام ثبوت پیش کرینگے ۔انہوں نے کہاکہ صرف تین سال میں 17ارب روپے کی کرپشن جوہوئی ہے وہ ایک الگ کیس ہے اس کے علاوہ ہمارے پاس دیگر کرپشن کے ثبوت بھی ہے جو ہم کمیشن میں پیش کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان آرمی چیف سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان جو ظلم وزیادتیاں ہورہی ہے اس کا از خود نوٹس لے ہم تمام ثبوت عدالت میں پیش کرینگے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کرپشن اتنی عروج پر پہنچ گئی ہے ایک پڑے لکھے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں جو ددہشتگردی کا واقعہ ہوا تھا اس واقعے میں ملوث آفیسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی صرف دو آفیسران کو معطل کرنے سے بات نہیں بنتی ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ کو ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں پر بھیجا ہے کیونکہ سیف اللہ چٹھہ کا تعلق بھی پنجاب سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بلوچستان کو پسماندہ چاہتے ہیں اور پنجاب کو ترقی دینا چاہتے ہیں اور یہاں کے فنڈز وہاں پر خر چ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم جلد ہی بلوچستان سے کرپشن کے خلاف مہم کا آغا ز کرنے والے ہیں اس سلسلے میں پارٹی کے مرکزی چیئرمین عمران خان سے اس سلسلے میں بھی بات چیت ہوگئی ہے ہم اپنی مہم کا آغاز کیسے کرینگے وقت آنے پر اس بارے میں سب کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم اپنی مہم کا آغاز کس طرح کیا ہے ۔